یوں تو پہلو میں مرے آئے تو شرما جائے ہے
یوں تو پہلو میں مرے آئے تو شرما جائے ہے
اور تصور میں وہ ظالم بے دھڑک آ جائے ہے
بیٹھے بیٹھے یاد جب وہ بے وفا آ جائے ہے
یوں لگے ہے جیسے دل پہلو سے نکلا جائے ہے
اس کے رخ پر زلف جب شوخی سے لہرا جائے ہے
کیا کہوں اس وقت دل میں کیا خیال آ جائے ہے
کیا کہوں اس کی جدائی کیا غضب ڈھا جائے ہے
جیتے جی ہی مجھ کو مرنے کا مزہ آ جائے ہے
اتنا ہی نزدیک تجھ کو پا رہا ہوں دل سے میں
جس قدر او بے وفا تو دور ہوتا جائے ہے
جتنی جتنی بڑھ رہی ہیں عشق کی مجبوریاں
اتنا اتنا زندگی کا لطف بڑھتا جائے ہے
یاد آنا اس کا فرقت میں قیامت ہو گیا
لاکھ سمجھاتا ہوں پر دل ہے کہ مچلا جائے ہے
یوں نہ ٹھکرا التجا برباد دل پر رحم کر
صبر کا دامن مرے ہاتھوں سے چھوٹا جائے ہے
جب کمی محسوس ہوگی ان کو میری ہر جگہ
وہ زمان ہجر میں نزدیک آیا جائے ہے
جب نہیں ہوتا کوئی غم کا مری فریاد رس
درد دل اشعار کے سانچوں میں ڈھلتا جائے ہے
جب امنڈتا ہے دل پر غم وفور درد سے
پھر کہاں پلکوں سے اشکوں کو سنبھالا جائے ہے
ہو کے شرمندہ کوئی مائل ہو جس دم لطف پر
بے خودیٔ شوق میں پھر کس سے سنبھلا جائے ہے
اک پیام ناشنیدہ نالۂ نا آفرید
ہائے وہ نغمہ جو ساز دل پہ گایا جائے ہے
اشک بھر بھر آئے ہیں اس وقت آنکھوں میں مری
اپنی بربادی کا منظر کس سے دیکھا جائے ہے
شکوہ آ ہی جائے ہے ساحرؔ لب مایوس پر
یورش غم سے دل ناکام گھبرا جائے ہے
ساحر بھوپالی