اسد بدایونی جدید اردو شاعری کے اہم، سنجیدہ اور معتبر شعرا میں شمار ہوتے ہیں، جنہوں نے اپنی فکری گہرائی، تہذیبی شعور اور علامتی اسلوب کے باعث ادبی دنیا میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ ان کا اصل نام اسعد احمد تھا جبکہ ادبی دنیا میں وہ اسد بدایونی کے نام سے معروف ہوئے۔ ان کا تعلق ہندوستان کی ریاست اتر پردیش کے تاریخی و ادبی شہر بدایوں سے تھا، اسی نسبت سے انہوں نے بدایونی تخلص اختیار کیا۔ ان کی تاریخِ پیدائش کے بارے میں مختلف حوالوں میں اختلاف پایا جاتا ہے، تاہم زیادہ معروف اور مستند ذرائع کے مطابق وہ 25 فروری 1958ء کو پیدا ہوئے، جبکہ بعض اشاعتی ریکارڈز میں 1952ء بھی درج ہے۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی علاقے میں حاصل کی اور بعد ازاں اعلیٰ تعلیم کے لیے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے وابستہ ہوئے، جہاں انہوں نے اردو زبان و ادب میں تخصص حاصل کیا۔
تعلیم مکمل کرنے کے بعد اسد بدایونی نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبۂ اردو میں تدریسی خدمات انجام دیں اور نئی نسل کو ادب سے روشناس کرانے میں اہم کردار ادا کیا۔ وہ صرف شاعر ہی نہیں بلکہ ایک سنجیدہ ادبی ذہن رکھنے والے نقاد اور مدیر بھی تھے۔ انہوں نے ادبی رسالہ "دائرے" جاری کیا، جو جدید ادب، تخلیقی مباحث اور نوجوان لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کے لیے اہم پلیٹ فارم ثابت ہوا۔ ان کی شاعری میں داخلی کرب، جدید انسان کی تنہائی، سماجی شکست و ریخت، تہذیبی زوال، وقت، یادداشت اور شناخت کے مسائل نہایت گہرائی سے نمایاں ہوتے ہیں۔ ان کا لہجہ شائستہ، زبان مہذب، اور اسلوب نہایت علامتی، تہہ دار اور فکر انگیز تھا۔ وہ سطحی جذباتیت کے بجائے سنجیدہ اور شعوری شاعری کے نمائندہ شاعر تھے، اسی لیے انہیں جدید اردو غزل اور نظم کا اہم نام سمجھا جاتا ہے۔
اسد بدایونی غزل اور نظم دونوں اصناف میں یکساں مہارت رکھتے تھے۔ ان کے معروف شعری مجموعوں میں "دھوپ کی سرحد"، "خیمۂ خواب" اور "جنونِ کنارہ" شامل ہیں، جبکہ بعد از وفات ان کا "کلیاتِ اسد بدایونی" بھی شائع ہوا، جس نے ان کے ادبی مقام کو مزید مستحکم کیا۔ انہوں نے مشاعروں کی عام شہرت سے زیادہ سنجیدہ ادبی حلقوں میں پذیرائی حاصل کی اور ان کے کلام پر جامعات میں تحقیقی کام بھی ہوا۔ روایت سے وابستگی کے باوجود انہوں نے جدید حسیت اور نئے شعری امکانات کو اپنایا۔ اسد بدایونی کا انتقال 2003ء میں علی گڑھ میں ہوا، بعد ازاں انہیں ان کے آبائی شہر بدایوں میں سپردِ خاک کیا گیا۔ ان کی وفات سے اردو شاعری ایک باوقار، منفرد اور صاحبِ فکر آواز سے محروم ہوگئی۔