ندی کے اس پار کھڑا اک پیڑ اکیلا
دیکھ رہا ہے ان جانے لوگوں کا ریلا
یوں تیری انجان جوانی راہ میں آئی
جیسے تو بچپن سے میرے ساتھ نہ کھیلا
جنگل کے سناٹے سے کچھ نسبت تو ہے
شہر کے ہنگامے میں پھرتا کون اکیلا
پہلی آگ ابھی تک ہے رگ رگ میں باقیؔ
سنتے ہیں کل پھر گاؤں میں ہوگا میلہ
باقی صدیقی
Nadī ke us paar khaṛā ek peṛ akelā
Dekh rahā hai un-jāne logoñ kā relā
Yuuñ terī anjān javānī rāh meñ aa.ī
Jaise tū bachpan se mere saath na khelā
Jangal ke sannāṭe se kuchh nisbat to hai
Shahr ke hangāme meñ phirtā kaun akelā
Pahlī aag abhī tak hai rag rag meñ Baqī'
Sunte haiñ kal phir gaañv meñ hogā melā
ِباقی صدیقی اردو اور پوٹھوہاری ادب کے اُن ممتاز شاعروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے سادگی، خلوص اور انسانی احساسات کو اپنی شاعری کا محور بنایا۔ ان کا اصل نام محمد افضل قریشی تھا اور وہ 20 دسمبر 1905ء کو ضلع راولپنڈی کے ایک گاؤں میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی زندگی معاشی تنگی اور ذاتی مشکلات سے عبارت رہی، جس کے باعث اعلیٰ تعلیم ممکن نہ ہو سکی، مگر ان حالات...
مکمل تعارف پڑھیں