وفا کے زخم ہم دھونے نہ پائے
بہت روئے مگر رونے نہ پائے
کچھ اتنا شور تھا شہر سبا میں
مسافر رات بھر سونے نہ پائے
جہاں تھی حادثہ ہر بات باقیؔ
وہیں کچھ حادثے ہونے نہ پائے
باقی صدیقی
Wafa ke zakhm hum dhone na paaye
Bahut roye magar rone na paaye
Kuchh itna shor tha shahar-e-saba mein
Musafir raat bhar sone na paaye
Jahaan thi hadisa har baat Baqi
Wahin kuchh hadise hone na paaye
ِباقی صدیقی اردو اور پوٹھوہاری ادب کے اُن ممتاز شاعروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے سادگی، خلوص اور انسانی احساسات کو اپنی شاعری کا محور بنایا۔ ان کا اصل نام محمد افضل قریشی تھا اور وہ 20 دسمبر 1905ء کو ضلع راولپنڈی کے ایک گاؤں میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی زندگی معاشی تنگی اور ذاتی مشکلات سے عبارت رہی، جس کے باعث اعلیٰ تعلیم ممکن نہ ہو سکی، مگر ان حالات...
مکمل تعارف پڑھیں