بہزاد لکھنوی اردو ادب کے معروف شعرا میں شمار ہوتے ہیں، خصوصاً غزل گوئی، فلمی نغمہ نگاری اور کلاسیکی لب و لہجے کی وجہ سے انہیں نمایاں مقام حاصل ہے۔ ان کا اصل نام سید محمد علی رضوی تھا جبکہ ادبی دنیا میں وہ بہزاد لکھنوی کے نام سے مشہور ہوئے۔ ان کی پیدائش 1900ء کے قریب لکھنؤ میں ہوئی، جو اس زمانے میں تہذیب، زبان اور شاعری کا اہم مرکز تھا۔ لکھنؤ کے ادبی ماحول نے ان کی شخصیت اور شاعری پر گہرا اثر ڈالا۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم روایتی انداز میں حاصل کی اور کم عمری ہی سے شعر کہنے لگے۔ چونکہ لکھنؤ میں اساتذۂ سخن کی روایت مضبوط تھی، اس لیے انہوں نے کلاسیکی زبان، محاورے اور عروض پر خاص توجہ دی۔
بہزاد لکھنوی نے ابتدا میں روایتی غزل گو شاعر کی حیثیت سے شہرت حاصل کی، مگر بعد ازاں فلمی دنیا سے وابستہ ہو کر وسیع حلقۂ اثر پیدا کیا۔ وہ ہندوستانی فلم صنعت کے ابتدائی دور کے اُن شعرا میں شامل تھے جنہوں نے فلمی نغمے کو ادبی وقار عطا کیا۔ انہوں نے متعدد فلموں کے لیے گیت لکھے اور ان کے کئی نغمات عوام میں بے حد مقبول ہوئے۔ ان کا انداز نرم، مترنم، شائستہ اور کلاسیکی رنگ لیے ہوئے تھا، جس میں محبت، ہجر، وفا، رومان اور جذباتی لطافت نمایاں نظر آتی ہے۔ ان کی شاعری میں لکھنؤ کی تہذیبی نزاکت اور زبان کی صفائی خاص طور پر محسوس ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے ان کے اشعار مشاعروں اور ادبی محفلوں میں پسند کیے جاتے تھے۔
ان کی زندگی کے کچھ کم معروف مگر اہم پہلو بھی قابلِ ذکر ہیں۔ بہزاد لکھنوی اُن شعرا میں تھے جو فلمی دنیا میں رہتے ہوئے بھی اپنی ادبی سنجیدگی برقرار رکھنے میں کامیاب رہے، حالانکہ اس دور میں بعض ادبی حلقے فلمی شاعری کو کم تر سمجھتے تھے۔ انہوں نے فلمی نغمے میں بھی غزل کی لطافت اور شعری وقار قائم رکھا۔ تقسیمِ ہند کے بعد وہ کراچی منتقل ہو گئے، جہاں انہوں نے ادبی سرگرمیوں میں حصہ لیا اور نئی نسل کے شعرا کی رہنمائی بھی کی۔ ان کا انتقال 1974ء میں کراچی میں ہوا۔ بہزاد لکھنوی کی ادبی اہمیت اس بات میں ہے کہ انہوں نے کلاسیکی اردو شاعری اور عوامی مقبولیت کے درمیان ایک خوبصورت پل قائم کیا، اور یہی وجہ ہے کہ آج بھی ان کا نام احترام سے لیا جاتا ہے۔