دلاور علی آزر

شاعر

تعارف شاعری

وقت کی سل دب گئی دیوار میں در آ گئے

وقت کی سل دب گئی دیوار میں در آ گئے
چند موسم بیتنے کے بعد سب گھر آ گئے
میں بہت محتاط تھا لیکن ہوائے شوق سے
دل کا دروازہ کھلا اور خواب اندر آ گئے
میرے خوابوں میں نہ جانے کس کی لو شامل ہوئی
میری آنکھوں میں نہ جانے کس کے منظر آ گئے
سوچتے ہی سوچتے ہم پر کھلے لہروں کے بھید
دیکھتے ہی دیکھتے دریا پلٹ کر آ گئے
زندگی نے ہاتھ کھینچا سانس کی تفہیم سے
اور یوں الزام سارے موت کے سر آ گئے
ان کے رنگ سرخ پر حیران ہوں خود بھی جو اشک
آنکھ اندر کی طرف کھلتے ہی باہر آ گئے
جانے ان رستوں پہ کیا گزرے گی آزرؔ صبح تک
شام سے پہلے ہی ہم آوارگاں گھر آ گئے

دلاور علی آزر