search
شعرا
ایکس سپیس
سپیکرز
ہمارے متعلق
رابطہ کیجیے
دلاور علی آزر
شاعر
تعارف
شاعری
کلام
شیشۂ وقت میں اب دیکھیے کیا ٹوٹتا ہے
یہ اک فقیر کا حجرہ ہے آ کے چلتے بنو
جیسے یہ رات ہے اک خواب طلسمات کی رات
کب تک پھروں گا ہاتھ میں کاسہ اٹھا کے میں
جو رہن رکھے تھے واپس وہ خواب دے مجھ کو
وہ مجھ کو ایک سمجھتا تھا اور ہزار تھا میں
کیسے بجھتا بھلا چراغ مرا
سورج زمیں کی اُور دھکیلا نہیں گیا
کرچی کرچی خواہشوں کا استعارہ خواب ہے
بخشا ہے اس نگاہ نے ایسا یقیں مجھے
درون خواب نیا اک جہاں نکلتا ہے
عکس منظر میں پلٹنے کے لیے ہوتا ہے
شانوں پہ اپنے بارِ الٰہی نہیں لیا
رہتا ہوں رات دن میں یوںہی مست شعر میں
یہ خرابہ کبھی آباد ہوا کرتا تھا
ٹوٹ کر نیند نے آنکھوں کا بھرم توڑ دیا
نیند میں کھلتے ہوئے خواب کی عریانی پر
مصرع دل کو سجانے کی اجازت نہیں ہے
تو جو رہ رہ کے محبت کا خدا بنتا ہے
آزرؔ رہا ہے تیشہ مرے خاندان میں
خود میں کھلتے ہوئے منظر سے نمودار ہوا
فائدہ کیا ہے زمانے میں خسارہ کیا ہے
آنکھوں سے کچھ چبھن بھی دل بے قرار کھینچ
آگ لگ جائے گی اک دن مری سرشاری کو
کھینچ کر عکس فسانے سے الگ ہو جاؤ
خود اپنی آگ میں سارے چراغ جلتے ہیں
آنکھ میں خواب زمانے سے الگ رکھا ہے
دل دے کے خوش تھا میں وہ دعا دے کے خوش ہوا
وقت کی سل دب گئی دیوار میں در آ گئے