کلامِ شاعر
- 01 شیشۂ وقت میں اب دیکھیے کیا ٹوٹتا ہے
- 02 یہ اک فقیر کا حجرہ ہے آ کے چلتے بنو
- 03 جیسے یہ رات ہے اک خواب طلسمات کی رات
- 04 کب تک پھروں گا ہاتھ میں کاسہ اٹھا کے میں
- 05 جو رہن رکھے تھے واپس وہ خواب دے مجھ کو
- 06 وہ مجھ کو ایک سمجھتا تھا اور ہزار تھا میں
- 07 کیسے بجھتا بھلا چراغ مرا
- 08 سورج زمیں کی اُور دھکیلا نہیں گیا
- 09 کرچی کرچی خواہشوں کا استعارہ خواب ہے
- 10 بخشا ہے اس نگاہ نے ایسا یقیں مجھے
- 11 درون خواب نیا اک جہاں نکلتا ہے
- 12 عکس منظر میں پلٹنے کے لیے ہوتا ہے
- 13 شانوں پہ اپنے بارِ الٰہی نہیں لیا
- 14 رہتا ہوں رات دن میں یوںہی مست شعر میں
- 15 یہ خرابہ کبھی آباد ہوا کرتا تھا
- 16 ٹوٹ کر نیند نے آنکھوں کا بھرم توڑ دیا
- 17 نیند میں کھلتے ہوئے خواب کی عریانی پر
- 18 مصرع دل کو سجانے کی اجازت نہیں ہے
- 19 تو جو رہ رہ کے محبت کا خدا بنتا ہے
- 20 آزرؔ رہا ہے تیشہ مرے خاندان میں
- 21 خود میں کھلتے ہوئے منظر سے نمودار ہوا
- 22 فائدہ کیا ہے زمانے میں خسارہ کیا ہے
- 23 آنکھوں سے کچھ چبھن بھی دل بے قرار کھینچ
- 24 آگ لگ جائے گی اک دن مری سرشاری کو
- 25 کھینچ کر عکس فسانے سے الگ ہو جاؤ
- 26 خود اپنی آگ میں سارے چراغ جلتے ہیں
- 27 آنکھ میں خواب زمانے سے الگ رکھا ہے
- 28 دل دے کے خوش تھا میں وہ دعا دے کے خوش ہوا
- 29 وقت کی سل دب گئی دیوار میں در آ گئے