دلاور علی آزر

شاعر

تعارف شاعری

یہ خرابہ کبھی آباد ہوا کرتا تھا

یہ خرابہ کبھی آباد ہوا کرتا تھا
مور چگتے تھے یہاں اونٹ وہاں چرتا تھا
رات لے آئی ہے پھر گھور اندھیرے میں اسے
ان خلاؤں سے مرا چاند بہت ڈرتا تھا
نشۂ حال نے بدمست کیا تھا اس کو
آنکھ رکھتا تھا کہیں پاؤں کہیں دھرتا تھا
حبس اتنا تھا کہ کھنچتی ہی نہ تھی سانس کی ڈور
زندہ رہنے کی تگ و دو میں جہاں مرتا تھا
جانے تصویر سے کیا شکل نکل آئی تھی
رنگ بھرتے ہوئے آہیں بھی کوئی بھرتا تھا
یہ نیا دور ہے ورنہ تو گئے وقتوں میں
پھول خوشبو کا نمائندہ ہوا کرتا تھا
اب مجھے یاد نہیں زیست کا معنی آزرؔ
میں نے اس لفظ کو عجلت میں کہیں برتا تھا

دلاور علی آزر