فہمیدہ ریاض — شاعر کی تصویر

آنکھیں — فہمیدہ ریاض

شاعر

تعارف شاعری

آنکھیں

جن پر میرا دل دھڑکا تھا
وہ سب باتیں دہراتے ہو
وہ جانے کیسی لڑکی ہے
تم اب جس کے گھر جاتے ہو
مجھ سے کہتے تھے
بن کاجل اچھی لگتی ہیں میری آنکھیں
تم اب جس کے گھر جاتے ہو
کیسی ہوں گی اس کی آنکھیں
تنہائی میں کھوئی کھوئی نازک سپنے بنتی ہوگی
تم اب جس کے گھر جاتے ہو
کیا وہ مجھ سے اچھی ہوگی

Aankhen

Jin par mera dil dhadka tha
Woh sab baatein dohrate ho
Woh jaane kaisi ladki hai
Tum ab jis ke ghar jaate ho
Mujh se kehte the
Bin kaajal achhi lagti hain meri aankhen
Tum ab jis ke ghar jaate ho
Kaisi hongi us ki aankhen
Tanhaai mein khoi khoi naazuk sapne banti hogi
Tum ab jis ke ghar jaate ho
Kya woh mujh se achhi hogi

شاعر کے بارے میں

فہمیدہ ریاض

فہمیدہ ریاض اردو ادب کی اُن منفرد، جری اور اثر انگیز آوازوں میں شمار ہوتی ہیں جنہوں نے شاعری کو محض جمالیاتی اظہار کے بجائے فکری، سماجی اور سیاسی م...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام