کلامِ شاعر
- 01 خوشا وہ دل کہ ہو جس دل میں آرزو تیری
- 02 خُدا کرے نہ تمھیں میرے حال سے واقف
- 03 عِشق کے سَودے سے پہلے دردِ سر کوئی نہ تھا
- 04 پسے دل اس کی چتون پر ہزاروں
- 05 طاق ابرو ہیں پسند طبع اک دل خواہ کے
- 06 تیری جو یاد اے دل خواہ بھولا
- 07 برق کو اس پر عبث گرنے کی ہیں تیاریاں
- 08 کعبہ و دیر میں ہے کس کے لیے دل جاتا
- 09 عارف ہے وہ جو حسن کا جویا جہاں میں ہے
- 10 اے جنوں ہوتے ہیں صحرا پر اتارے شہر سے
- 11 قد صنم سا اگر آفریدہ ہونا تھا
- 12 تازہ ہو دماغ اپنا تمنا ہے تو یہ ہے
- 13 سبزہ بالائے ذقن دشمن ہے خلق اللہ کا
- 14 فرط شوق اس بت کے کوچہ میں لگا لے جائے گا
- 15 آئنہ خانہ کریں گے دل ناکام کو ہم
- 16 بلبل کو خار خار دبستاں ہے ان دنوں
- 17 دل شہید رہ داماں نہ ہوا تھا سو ہوا
- 18 آخر کار چلے تیر کی رفتار قدم
- 19 ناز و ادا ہے تجھ سے دل آرام کے لیے
- 20 حسن کس روز ہم سے صاف ہوا
- 21 خار مطلوب جو ہووے تو گلستاں مانگوں
- 22 آشنا گوش سے اس گل کے سخن ہے کس کا
- 23 اس کے کوچے میں مسیحا ہر سحر جاتا رہا
- 24 جوش و خروش پر ہے بہار چمن ہنوز
- 25 عاشق ہوں میں نفرت ہے مرے رنگ کو رو سے
- 26 چھپ کے رسوا ہوئے انکار ہے سچ بات میں کیا
- 27 شب فرقت میں یار جانی کی
- 28 دولت حسن کی بھی ہے کیا لوٹ
- 29 قصۂ سلسلۂ زلف نہ کہنا بہتر
- 30 لخت جگر کو کیونکر مژگان تر سنبھالے
- 31 روز مولود سے ساتھ اپنے ہوا غم پیدا
- 32 ہے جب سے دست یار میں ساغر شراب کا
- 33 بازار دہر میں تری منزل کہاں نہ تھی
- 34 بلبل گلوں سے دیکھ کے تجھ کو بگڑ گیا
- 35 سر شمع ساں کٹائیے پر دم نہ ماریے
- 36 منتظر تھا وہ تو جست و جو میں یہ آوارہ تھا
- 37 برگشتہ طالعی کا تماشا دکھاؤں میں
- 38 پیری سے مرا نوع دگر حال ہوا ہے
- 39 سر کاٹ کے کر دیجئے قاتل کے حوالے
- 40 عناب لب کا اپنے مزا کچھ نہ پوچھئے
- 41 رجوع بندہ کی ہے اس طرح خدا کی طرف
- 42 آبلے پاؤں کے کیا تو نے ہمارے توڑے
- 43 کوئی اچھا نہیں ہوتا ہے بری چالوں سے
- 44 اس شش جہت میں خوب تری جستجو کریں
- 45 کون سے دل میں محبت نہیں جانی تیری
- 46 دیوانگی نے کیا کیا عالم دکھا دیے ہیں
- 47 بلائے جاں مجھے ہر ایک خوش جمال ہوا
- 48 غم نہیں گو اے فلک رتبہ ہے مجھ کو خار کا
- 49 شہرۂ آفاق مجھ سا کون سا دیوانہ ہے
- 50 انصاف کی ترازو میں تولا عیاں ہوا
- 51 لباس یار کو میں پارہ پارہ کیا کرتا
- 52 دل کی کدورتیں اگر انساں سے دور ہوں
- 53 کوچۂ دلبر میں میں بلبل چمن میں مست ہے
- 54 طرہ اسے جو حسن دل آزار نے کیا
- 55 ایسی وحشت نہیں دل کو کہ سنبھل جاؤں گا
- 56 ہنگام نزع محو ہوں تیرے خیال کا
- 57 پیمبر میں نہیں عاشق ہوں جانی
- 58 وہی چتون کی خوں خواری جو آگے تھی سو اب بھی ہے
- 59 محبت کا تری بندہ ہر اک کو اے صنم پایا
- 60 جوہر نہیں ہمارے ہیں صیاد پر کھلے
- 61 دل بہت تنگ رہا کرتا ہے
- 62 خواہاں ترے ہر رنگ میں اے یار ہمیں تھے
- 63 دل لگی اپنی ترے ذکر سے کس رات نہ تھی
- 64 مئے گل رنگ سے لبریز رہیں جام سفید
- 65 قدرت حق ہے صباحت سے تماشا ہے وہ رخ
- 66 مرے دل کو شوق فغاں نہیں مرے لب تک آتی دعا نہیں
- 67 زندے وہی ہیں جو کہ ہیں تم پر مرے ہوے
- 68 تار تار پیرہن میں بھر گئی ہے بوئے دوست
- 69 حسرت جلوۂ دیدار لیے پھرتی ہے
- 70 موت مانگوں تو رہے آرزو خواب مجھے
- 71 چمن میں رہنے دے کون آشیاں نہیں معلوم
- 72 وہ نازنیں یہ نزاکت میں کچھ یگانہ ہوا
- 73 وحشت دل نے کیا ہے وہ بیاباں پیدا
- 74 چمن میں شب کو جو وہ شوخ بے نقاب آیا
- 75 صورت سے اس کی بہتر صورت نہیں ہے کوئی
- 76 کام ہمت سے جواں مرد اگر لیتا ہے
- 77 کیا کیا نہ رنگ تیرے طلب گار لا چکے
- 78 توڑ کر تار نگہ کا سلسلہ جاتا رہا
- 79 یا علی کہہ کر بت پندار توڑا چاہئے
- 80 آئنہ سینۂ صاحب نظراں ہے کہ جو تھا
- 81 غیرت مہر رشک ماہ ہو تم
- 82 جگر کو داغ میں مانند لالہ کیا کرتا
- 83 رفتگاں کا بھی خیال اے اہل عالم کیجیے
- 84 حباب آسا میں دم بھرتا ہوں تیری آشنائی کا
- 85 تری زلفوں نے بل کھایا تو ہوتا
- 86 وحشی تھے بوئے گل کی طرح اس جہاں میں ہم
- 87 حسن پری اک جلوۂ مستانہ ہے اس کا
- 88 یہ کس رشک مسیحا کا مکاں ہے
- 89 دوست دشمن نے کئے قتل کے ساماں کیا کیا
- 90 تصور سے کسی کے میں نے کی ہے گفتگو برسوں
- 91 نا فہمی اپنی پردہ ہے دیدار کے لیے
- 92 فریب حسن سے گبر و مسلماں کا چلن بگڑا
- 93 کوئی عشق میں مجھ سے افزوں نہ نکلا
- 94 رخ و زلف پر جان کھویا کیا
- 95 یار کو میں نے مجھے یار نے سونے نہ دیا
- 96 اے صنم جس نے تجھے چاند سی صورت دی ہے
- 97 شب وصل تھی چاندنی کا سماں تھا
- 98 مگر اس کو فریب نرگس مستانہ آتا ہے
- 99 ہوائے دور مے خوش گوار راہ میں ہے
- 100 دہن پر ہیں ان کے گماں کیسے کیسے
- 101 سن تو سہی جہاں میں ہے تیرا فسانہ کیا
- 102 یہ آرزو تھی تجھے گل کے رو بہ رو کرتے