search
شعرا
ایکس سپیس
سپیکرز
ہمارے متعلق
رابطہ کیجیے
حیدر علی آتش
شاعر
تعارف
شاعری
کلام
خوشا وہ دل کہ ہو جس دل میں آرزو تیری
خُدا کرے نہ تمھیں میرے حال سے واقف
عِشق کے سَودے سے پہلے دردِ سر کوئی نہ تھا
پسے دل اس کی چتون پر ہزاروں
طاق ابرو ہیں پسند طبع اک دل خواہ کے
تیری جو یاد اے دل خواہ بھولا
برق کو اس پر عبث گرنے کی ہیں تیاریاں
کعبہ و دیر میں ہے کس کے لیے دل جاتا
عارف ہے وہ جو حسن کا جویا جہاں میں ہے
اے جنوں ہوتے ہیں صحرا پر اتارے شہر سے
قد صنم سا اگر آفریدہ ہونا تھا
تازہ ہو دماغ اپنا تمنا ہے تو یہ ہے
سبزہ بالائے ذقن دشمن ہے خلق اللہ کا
فرط شوق اس بت کے کوچہ میں لگا لے جائے گا
آئنہ خانہ کریں گے دل ناکام کو ہم
بلبل کو خار خار دبستاں ہے ان دنوں
دل شہید رہ داماں نہ ہوا تھا سو ہوا
آخر کار چلے تیر کی رفتار قدم
ناز و ادا ہے تجھ سے دل آرام کے لیے
حسن کس روز ہم سے صاف ہوا
خار مطلوب جو ہووے تو گلستاں مانگوں
آشنا گوش سے اس گل کے سخن ہے کس کا
اس کے کوچے میں مسیحا ہر سحر جاتا رہا
جوش و خروش پر ہے بہار چمن ہنوز
عاشق ہوں میں نفرت ہے مرے رنگ کو رو سے
چھپ کے رسوا ہوئے انکار ہے سچ بات میں کیا
شب فرقت میں یار جانی کی
دولت حسن کی بھی ہے کیا لوٹ
قصۂ سلسلۂ زلف نہ کہنا بہتر
لخت جگر کو کیونکر مژگان تر سنبھالے
روز مولود سے ساتھ اپنے ہوا غم پیدا
ہے جب سے دست یار میں ساغر شراب کا
بازار دہر میں تری منزل کہاں نہ تھی
بلبل گلوں سے دیکھ کے تجھ کو بگڑ گیا
سر شمع ساں کٹائیے پر دم نہ ماریے
منتظر تھا وہ تو جست و جو میں یہ آوارہ تھا
برگشتہ طالعی کا تماشا دکھاؤں میں
پیری سے مرا نوع دگر حال ہوا ہے
سر کاٹ کے کر دیجئے قاتل کے حوالے
عناب لب کا اپنے مزا کچھ نہ پوچھئے
رجوع بندہ کی ہے اس طرح خدا کی طرف
آبلے پاؤں کے کیا تو نے ہمارے توڑے
کوئی اچھا نہیں ہوتا ہے بری چالوں سے
اس شش جہت میں خوب تری جستجو کریں
کون سے دل میں محبت نہیں جانی تیری
دیوانگی نے کیا کیا عالم دکھا دیے ہیں
بلائے جاں مجھے ہر ایک خوش جمال ہوا
غم نہیں گو اے فلک رتبہ ہے مجھ کو خار کا
شہرۂ آفاق مجھ سا کون سا دیوانہ ہے
انصاف کی ترازو میں تولا عیاں ہوا
لباس یار کو میں پارہ پارہ کیا کرتا
دل کی کدورتیں اگر انساں سے دور ہوں
کوچۂ دلبر میں میں بلبل چمن میں مست ہے
طرہ اسے جو حسن دل آزار نے کیا
ایسی وحشت نہیں دل کو کہ سنبھل جاؤں گا
ہنگام نزع محو ہوں تیرے خیال کا
پیمبر میں نہیں عاشق ہوں جانی
وہی چتون کی خوں خواری جو آگے تھی سو اب بھی ہے
محبت کا تری بندہ ہر اک کو اے صنم پایا
جوہر نہیں ہمارے ہیں صیاد پر کھلے
دل بہت تنگ رہا کرتا ہے
خواہاں ترے ہر رنگ میں اے یار ہمیں تھے
دل لگی اپنی ترے ذکر سے کس رات نہ تھی
مئے گل رنگ سے لبریز رہیں جام سفید
قدرت حق ہے صباحت سے تماشا ہے وہ رخ
مرے دل کو شوق فغاں نہیں مرے لب تک آتی دعا نہیں
زندے وہی ہیں جو کہ ہیں تم پر مرے ہوے
تار تار پیرہن میں بھر گئی ہے بوئے دوست
حسرت جلوۂ دیدار لیے پھرتی ہے
موت مانگوں تو رہے آرزو خواب مجھے
چمن میں رہنے دے کون آشیاں نہیں معلوم
وہ نازنیں یہ نزاکت میں کچھ یگانہ ہوا
وحشت دل نے کیا ہے وہ بیاباں پیدا
چمن میں شب کو جو وہ شوخ بے نقاب آیا
صورت سے اس کی بہتر صورت نہیں ہے کوئی
کام ہمت سے جواں مرد اگر لیتا ہے
کیا کیا نہ رنگ تیرے طلب گار لا چکے
توڑ کر تار نگہ کا سلسلہ جاتا رہا
یا علی کہہ کر بت پندار توڑا چاہئے
آئنہ سینۂ صاحب نظراں ہے کہ جو تھا
غیرت مہر رشک ماہ ہو تم
جگر کو داغ میں مانند لالہ کیا کرتا
رفتگاں کا بھی خیال اے اہل عالم کیجیے
حباب آسا میں دم بھرتا ہوں تیری آشنائی کا
تری زلفوں نے بل کھایا تو ہوتا
وحشی تھے بوئے گل کی طرح اس جہاں میں ہم
حسن پری اک جلوۂ مستانہ ہے اس کا
یہ کس رشک مسیحا کا مکاں ہے
دوست دشمن نے کئے قتل کے ساماں کیا کیا
تصور سے کسی کے میں نے کی ہے گفتگو برسوں
نا فہمی اپنی پردہ ہے دیدار کے لیے
فریب حسن سے گبر و مسلماں کا چلن بگڑا
کوئی عشق میں مجھ سے افزوں نہ نکلا
رخ و زلف پر جان کھویا کیا
یار کو میں نے مجھے یار نے سونے نہ دیا
اے صنم جس نے تجھے چاند سی صورت دی ہے
شب وصل تھی چاندنی کا سماں تھا
مگر اس کو فریب نرگس مستانہ آتا ہے
ہوائے دور مے خوش گوار راہ میں ہے
دہن پر ہیں ان کے گماں کیسے کیسے
سن تو سہی جہاں میں ہے تیرا فسانہ کیا
یہ آرزو تھی تجھے گل کے رو بہ رو کرتے