دہر کے اندھے کنویں میں کس کے آوازہ لگا
کوئی پتھر پھینک کر پانی کا اندازہ لگا
ذہن میں سوچوں کا سورج برف کی صورت نہ رکھ
کہر کے دیوار و در پر دھوپ کا غازہ لگا
رات بھی اب جا رہی ہے اپنی منزل کی طرف
کس کی دھن میں جاگتا ہے گھر کا دروازہ لگا
کانچ کے برتن میں جیسے سرخ کاغذ کا گلاب
وہ مجھے اتنا ہی اچھا اور تر و تازہ لگا
پیار کرنے بھی نہ پایا تھا کہ رسوائی ملی
جرم سے پہلے ہی مجھ کو سنگ خمیازہ لگا
شہر کی سڑکوں پر اندھی رات کے پچھلے پہر
میرا ہی سایہ مجھے رنگوں کا شیرازہ لگا
جانے رہتا ہے کہاں اقبال ساجدؔ آج کل
رات دن دیکھا ہے اس کے گھر کا دروازہ لگا
اقبال ساجد
Dahar ke andhe kunwen mein kis ke awaza laga
Koyi patthar phenk kar paani ka andaza laga
Zehan mein sochon ka suraj barf ki surat na rakh
Kohar ke deewar o dar par dhoop ka ghaza laga
Raat bhi ab ja rahi hai apni manzil ki taraf
Kis ki dhun mein jaagta hai ghar ka darwaza laga
Kaanch ke bartan mein jaise surkh kaghaz ka gulab
Woh mujhe itna hi achha aur tar-o-taza laga
Pyaar karne bhi na paya tha ke ruswai mili
Jurum se pehle hi mujh ko sang-e-khamiyaza laga
Shehar ki saṛkon par andhi raat ke pichle pehar
Mera hi saya mujhe rangon ka shiraza laga
Jaane rehta hai kahan Iqbalؔ Sajidؔ aaj kal
Raat din dekha hai us ke ghar ka darwaza laga
اقبال ساجد اردو کے معروف جدید غزل گو شعرا میں شمار ہوتے ہیں جن کا اصل نام محمد اقبال تھا۔ وہ 18 مئی 1932 کو لنڈھورا، ضلع سہارنپور (بھارت) میں پیدا ہوئے اور تقسیمِ ہند کے بعد پاکستان آکر لاہور میں مقیم ہوگئے۔ سادگی، داخلیت اور گہرے انسانی شعور نے ان کی شاعری کو معاصر شعرا سے ممتاز کیا۔ اگرچہ وہ صرف میٹرک تک تعلیم حاصل کرسکے، لیکن مطالعے، مشاہدے ...
مکمل تعارف پڑھیں