دہائی دوں کہ کھلے ظلم سے بچائے مجھے
کوئی نہیں مرے پنجے سے جو چھڑائے مجھے
میں اپنے جسم کے پتھر کو ٹھوکریں ماروں
مگر یہ شغل اذیت پسند آئے مجھے
مرے ہی منہ کو مرا خون لگ چکا ہے یہاں
مرے سوا کوئی قاتل نظر نہ آئے مجھے
میں اشتہار لگاؤں بدن پہ غزلوں کے
وہ چاہتا ہے کہ شو کیس میں سجائے مجھے
میں خود بھی اپے اشاروں پہ آج تک نہ چلا
وہ انگلیوں پہ بھلا کس طرح نچائے مجھے
مزہ تو جب ہے شعاعیں بھی چھتریاں بن جائیں
خود آفتاب چلے لے کے سائے سائے مجھے
بدل چکے ہیں رویے شکایتیں کیسی
میں جس سے بچ کے چلوں وہ نہ منہ لگائے مجھے
اقبال ساجد
Duhai dun ke khule zulm se bachaye mujhe
Koi nahin mere panje se jo chhuRaye mujhe
Main apne jism ke patthar ko Thokarein marun
Magar yeh shoghl aziyat pasand aaye mujhe
Mere hi munh ko mera khoon lag chuka hai yahan
Mere siwa koi qatil nazar na aaye mujhe
Main ishtihaar lagaun badan pe ghazlon ke
Woh chahta hai ke show-case mein sajaye mujhe
Main khud bhi apne isharon pe aaj tak na chala
Woh ungliyon pe bhala kis tarah nachaye mujhe
Maza to jab hai shuayein bhi chhatriyan ban jaayen
Khud aaftab chale le ke saaye saaye mujhe
Badal chuke hain ravaiye shikayatein kaisi
Main jis se bach ke chalun woh na muh lagaye mujhe
اقبال ساجد اردو کے معروف جدید غزل گو شعرا میں شمار ہوتے ہیں جن کا اصل نام محمد اقبال تھا۔ وہ 18 مئی 1932 کو لنڈھورا، ضلع سہارنپور (بھارت) میں پیدا ہوئے اور تقسیمِ ہند کے بعد پاکستان آکر لاہور میں مقیم ہوگئے۔ سادگی، داخلیت اور گہرے انسانی شعور نے ان کی شاعری کو معاصر شعرا سے ممتاز کیا۔ اگرچہ وہ صرف میٹرک تک تعلیم حاصل کرسکے، لیکن مطالعے، مشاہدے ...
مکمل تعارف پڑھیں