ہر گھڑی کا ساتھ دکھ دیتا ہے جان من مجھے
ہر کوئی کہنے لگا تنہائی کا دشمن مجھے
دن کو کرنیں رات کو جگنو پکڑنے کا ہے شوق
جانے کس منزل میں لے جائے گا پاگل پن مجھے
سادہ کاغذ رکھ کے آیا ہوں نمائش گاہ میں
دیکھ کر ہوتی تھی ہر تصویر کو الجھن مجھے
ناچتا تھا پاؤں میں لمحوں کے گھنگرو باندھ کر
دے گیا دھوکا سمٹ کر وقت کا آنگن مجھے
نیکیوں کے پھل نہیں لگتے بدی کے پیڑ پر
اس نے واپس کر دیا ہے پھر تہی دامن مجھے
دوستو سن لی خدا نے کل مری پہلی دعا
شرم سے آخر جھکانی پڑ گئی گردن مجھے
کیا ملا تجھ کو بتا اندھے سے لاٹھی چھین کر
کر دیا کیوں آس سے محروم جان من مجھے
سرد ہو سکتی نہیں ساجدؔ کبھی سینے کی آگ
دل جلانے کو ملا ہے یاد کا ایندھن مجھے
اقبال ساجد
Har ghadi ka saath dukh deta hai jaan-e-man mujhe
Har koi kehne laga tanhaai ka dushman mujhe
Din ko kirnein raat ko jugnu pakadne ka hai shauq
Jaane kis manzil mein le jaayega paagalpan mujhe
Saada kaghaz rakh ke aaya hoon numaish-gah mein
Dekh kar hoti thi har tasveer ko uljhan mujhe
Naachta tha paaoon mein lamhon ke ghungroo baandh kar
De gaya dhoka simat kar waqt ka aangan mujhe
Nekiyon ke phal nahin lagte badi ke ped par
Us ne waapas kar diya hai phir tahi-daaman mujhe
Dosto sun li Khuda ne kal meri pehli dua
Sharm se aakhir jhukaani pad gayi gardan mujhe
Kya mila tujh ko bata andhe se laathi chheen kar
Kar diya kyon aas se mehroom jaan-e-man mujhe
Sard ho sakti nahin Sajid kabhi seene ki aag
Dil jalane ko mila hai yaad ka eendhan mujhe
اقبال ساجد اردو کے معروف جدید غزل گو شعرا میں شمار ہوتے ہیں جن کا اصل نام محمد اقبال تھا۔ وہ 18 مئی 1932 کو لنڈھورا، ضلع سہارنپور (بھارت) میں پیدا ہوئے اور تقسیمِ ہند کے بعد پاکستان آکر لاہور میں مقیم ہوگئے۔ سادگی، داخلیت اور گہرے انسانی شعور نے ان کی شاعری کو معاصر شعرا سے ممتاز کیا۔ اگرچہ وہ صرف میٹرک تک تعلیم حاصل کرسکے، لیکن مطالعے، مشاہدے ...
مکمل تعارف پڑھیں