اقبال ساجد — شاعر کی تصویر

پیاسے کے پاس رات سمندر پڑا ہوا — اقبال ساجد

شاعر

تعارف شاعری

پیاسے کے پاس رات سمندر پڑا ہوا

پیاسے کے پاس رات سمندر پڑا ہوا
کروٹ بدل رہا تھا برابر پڑا ہوا
باہر سے دیکھیے تو بدن ہیں ہرے بھرے
لیکن لہو کا کال ہے اندر پڑا ہوا
دیوار تو ہے راہ میں سالم کھڑی ہوئی
سایہ ہے درمیان سے کٹ کر پڑا ہوا
اندر تھی جتنی آگ وہ ٹھنڈی نہ ہو سکی
پانی تھا صرف گھاس کے اوپر پڑا ہوا
ہاتھوں پہ بہہ رہی ہے لکیروں کی آب جو
قسمت کا کھیت پھر بھی ہے بنجر پڑا ہوا
یہ خود بھی آسمان کی وسعت میں قید ہے
کیا دیکھتا ہے چاند کو چھت پر پڑا ہوا
جلتا ہے روز شام کو گھاٹی کے اس طرف
دن کا چراغ جھیل کے اندر پڑا ہوا
مارا کسی نے سنگ تو ٹھوکر لگی مجھے
دیکھا تو آسماں تھا زمیں پر پڑا ہوا

Piyaase ke paas raat samundar pada hua

Piyaase ke paas raat samundar pada hua
Karvat badal raha tha barabar pada hua
Baahar se dekhiye to badan hain hare bhare
Lekin lahoo ka kaal hai andar pada hua
Deewaar to hai raah mein saalim khadi hui
Saaya hai darmiyan se kat kar pada hua
Andar thi jitni aag woh thandi na ho saki
Paani tha sirf ghaas ke upar pada hua
Haathon pe beh rahi hai lakeeron ki aab-e-joo
Qismat ka khet phir bhi hai banjar pada hua
Yeh khud bhi aasman ki vusat mein qaid hai
Kya dekhta hai chaand ko chhat par pada hua
Jalta hai roz shaam ko ghati ke us taraf
Din ka charagh jheel ke andar pada hua
Maara kisi ne sang to thokar lagi mujhe
Dekha to aasman tha zameen par pada hua

شاعر کے بارے میں

اقبال ساجد

اقبال ساجد اردو کے معروف جدید غزل گو شعرا میں شمار ہوتے ہیں جن کا اصل نام محمد اقبال تھا۔ وہ 18 مئی 1932 کو لنڈھورا، ضلع سہارنپور (بھارت) میں پیدا ہوئے اور تقسیمِ ہند کے بعد پاکستان آکر لاہور میں مقیم ہوگئے۔ سادگی، داخلیت اور گہرے انسانی شعور نے ان کی شاعری کو معاصر شعرا سے ممتاز کیا۔ اگرچہ وہ صرف میٹرک تک تعلیم حاصل کرسکے، لیکن مطالعے، مشاہدے ...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام