رخ روشن کا روشن ایک پہلو بھی نہیں نکلا
جسے میں چاند سمجھا تھا وہ جگنو بھی نہیں نکلا
وہ تیرا دوست جو پھولوں کو پتھرانے کا عادی تھا
کچھ اس سے شعبدہ بازی میں کم تو بھی نہیں نکلا
ابھی کس منہ سے میں دعویٰ کروں شاداب ہونے کا
ابھی ترشے ہوئے شانے پہ بازو بھی نہیں نکلا
گھروں سے کس لیے یہ بھیڑ سڑکوں پر نکل آئی
ابھی تو بانٹنے وہ شخص خوشبو بھی نہیں نکلا
شکاری آئے تھے دل میں شکار آرزو کرنے
مگر اس دشت میں تو ایک آہو بھی نہیں نکلا
تری بھی حسن کاری کے ہزاروں لوگ ہیں قائل
گلی کوچوں سے لیکن اس کا جادو بھی نہیں نکلا
بتا اس دور میں اقبال ساجدؔ کون نکلے گا
صداقت کا علم لے کر اگر تو بھی نہیں نکلا
اقبال ساجد
Rukh-e-roshan ka roshan ek pehlu bhi nahin nikla
Jise main chaand samjha tha woh jugnu bhi nahin nikla
Woh tera dost jo phoolon ko pathraane ka aadi tha
Kuch us se shobada-baazi mein kam to bhi nahin nikla
Abhi kis munh se main daawa karun shaadaab hone ka
Abhi tarshe hue shaane pe baazu bhi nahin nikla
Gharon se kis liye yeh bheed sadkon par nikal aayi
Abhi to baantne woh shakhs khushboo bhi nahin nikla
Shikaari aaye the dil mein shikaar-e-aarzoo karne
Magar is dasht mein to ek aahoo bhi nahin nikla
Teri bhi husn-kaari ke hazaaron log hain qaail
Gali koochon se lekin us ka jaadoo bhi nahin nikla
Bata is daur mein Iqbal Sajid kaun niklega
Sadaaqat ka alam le kar agar tu bhi nahin nikla
اقبال ساجد اردو کے معروف جدید غزل گو شعرا میں شمار ہوتے ہیں جن کا اصل نام محمد اقبال تھا۔ وہ 18 مئی 1932 کو لنڈھورا، ضلع سہارنپور (بھارت) میں پیدا ہوئے اور تقسیمِ ہند کے بعد پاکستان آکر لاہور میں مقیم ہوگئے۔ سادگی، داخلیت اور گہرے انسانی شعور نے ان کی شاعری کو معاصر شعرا سے ممتاز کیا۔ اگرچہ وہ صرف میٹرک تک تعلیم حاصل کرسکے، لیکن مطالعے، مشاہدے ...
مکمل تعارف پڑھیں