سائے کی طرح بڑھ نہ کبھی قد سے زیادہ
تھک جائے گا بھاگے گا اگر حد سے زیادہ
ممکن ہے ترے ہاتھ سے مٹ جائیں لکیریں
امید نہ رکھ گوہر مقصد سے زیادہ
لگ جائے نہ تجھ پر ہی ترے قتل کا الزام
بدنام تو ہوتا ہے برا بد سے زیادہ
خواہش ہے بڑائی کی تو اندر سے بڑا بن
کر ذہن کی بھی نشو و نما قد سے زیادہ
دیکھوں تو مرے جسم پہ شاخیں ہیں نہ پتے
سوچوں تو گھنا چھاؤں میں برگد سے زیادہ
رہنے دو خلاؤں میں مری قبر نہ کھودو
ہے پیار مجھے خاک کی مسند سے زیادہ
آنکھیں تو لگی رہتی ہیں دروازے کی جانب
ملتی ہے خوشی اپنی ہی آمد سے زیادہ
کیا جانئے کیا بات ہے اک عمر سے ساجدؔ
ویران ہے ٹوٹے ہوئے مرقد سے زیادہ
اقبال ساجد
Saaye ki tarah badh na kabhi qad se zyada
Thak jaayega bhaagega agar hadd se zyada
Mumkin hai tere haath se mit jaayen lakeerein
Umeed na rakh gauhar-e-maqsad se zyada
Lag jaaye na tujh par hi tere qatl ka ilzaam
Badnaam to hota hai bura bad se zyada
Khwahish hai badaai ki to andar se bada ban
Kar zehn ki bhi nashv-o-numa qad se zyada
Dekhun to mere jism pe shaakhein hain na patte
Sochun to ghana chhaaoon mein bargad se zyada
Rehne do khalaon mein meri qabr na khodo
Hai pyaar mujhe khaak ki masnad se zyada
Aankhein to lagi rehti hain darwaze ki jaanib
Milti hai khushi apni hi aamad se zyada
Kya jaaniye kya baat hai ek umar se Sajid
Veeran hai toote hue marqad se zyada
اقبال ساجد اردو کے معروف جدید غزل گو شعرا میں شمار ہوتے ہیں جن کا اصل نام محمد اقبال تھا۔ وہ 18 مئی 1932 کو لنڈھورا، ضلع سہارنپور (بھارت) میں پیدا ہوئے اور تقسیمِ ہند کے بعد پاکستان آکر لاہور میں مقیم ہوگئے۔ سادگی، داخلیت اور گہرے انسانی شعور نے ان کی شاعری کو معاصر شعرا سے ممتاز کیا۔ اگرچہ وہ صرف میٹرک تک تعلیم حاصل کرسکے، لیکن مطالعے، مشاہدے ...
مکمل تعارف پڑھیں