اقبال ساجد — شاعر کی تصویر

وہ دوست تھا تو اسی کو عدو بھی ہونا تھا — اقبال ساجد

شاعر

تعارف شاعری

وہ دوست تھا تو اسی کو عدو بھی ہونا تھا

وہ دوست تھا تو اسی کو عدو بھی ہونا تھا
لہو پہن کے مجھے سرخ رو بھی ہونا تھا
سنہری ہاتھ میں تازہ لہو کی فصل نہ دی
کہ اپنے حق کے لیے جنگجو بھی ہونا تھا
بگولہ بن کے سمندر میں خاک اڑانا تھی
کہ لہر لہر مجھے تند خو بھی ہونا تھا
مرے ہی حرف دکھاتے تھے میری شکل مجھے
یہ اشتہار مرے روبرو بھی ہونا تھا
کشش تھی پھول سی اس میں تو لا محالہ مجھے
اسیر رنگ گرفتار بو بھی ہونا تھا
سزا تو ملنا تھی مجھ کو برہنہ لفظوں کی
زباں کے ساتھ لبوں کو رفو بھی ہونا تھا
سفر کا بوجھ اٹھانے سے پیشتر ساجدؔ
مزاج دان رہ جستجو بھی ہونا تھا

Woh dost tha to usi ko adu bhi hona tha

Woh dost tha to usi ko adu bhi hona tha
Lahoo pehan ke mujhe surkh-ru bhi hona tha
Sunehri haath mein taza lahoo ki fasl na di
Ke apne haq ke liye jangju bhi hona tha
Bagoola ban ke samundar mein khaak uṛana thi
Ke lehar lehar mujhe tund-kho bhi hona tha
Mere hi harf dikhate the meri shakl mujhe
Yeh ishtihaar mere rubaru bhi hona tha
Kashish thi phool si us mein to la-mahala mujhe
Aseer-e-rang giraftar-e-bu bhi hona tha
Saza to milna thi mujh ko barahna lafzon ki
Zabaan ke saath labon ko rafu bhi hona tha
Safar ka bojh uṭhane se peshtar Sajidؔ
Mizaj-daan-e-rah-e-justuju bhi hona tha

شاعر کے بارے میں

اقبال ساجد

اقبال ساجد اردو کے معروف جدید غزل گو شعرا میں شمار ہوتے ہیں جن کا اصل نام محمد اقبال تھا۔ وہ 18 مئی 1932 کو لنڈھورا، ضلع سہارنپور (بھارت) میں پیدا ہوئے اور تقسیمِ ہند کے بعد پاکستان آکر لاہور میں مقیم ہوگئے۔ سادگی، داخلیت اور گہرے انسانی شعور نے ان کی شاعری کو معاصر شعرا سے ممتاز کیا۔ اگرچہ وہ صرف میٹرک تک تعلیم حاصل کرسکے، لیکن مطالعے، مشاہدے ...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام