آگ پانی میں فروزاں دیکھو
تم بھی اس گھر کا چراغاں دیکھو
وحشت خواب گریزاں دیکھو
لذت دید کا عنواں دیکھو
دیکھ کر ہی تمہیں خوش ہو جاؤں
میری آسودگیٔ جاں دیکھو
اپنے ہی لمس پہ ہے اس کا گماں
میرا عرفاں مرا وجداں دیکھو
میں بلندی نہیں پاتال میں ہوں
دیکھو پاؤ تو تہہ جاں دیکھو
عشرت آفریں
Aag paani mein furozaaN dekho
Tum bhi uss ghar ka charaghaaN dekho
Wahshat-e-khwab-e-gurezaaN dekho
Lazzat-e-deed ka unwaaN dekho
Dekh kar hi tumhein khush ho jaauN
Meri aasoodagi-e-jaaN dekho
Apne hi lams pe hai iss ka gumaaN
Mera irfaaN mera wajdaaN dekho
Main bulandi nahi paataal mein hoon
Dekho paao to teh-e-jaaN dekho
عشرت آفرین، جن کا اصل نام عشرت جہان ہے، اردو ادب کی ایک ممتاز شاعرہ اور ادبی شخصیت ہیں۔ وہ 25 دسمبر 1956ء کو کراچی میں پیدا ہوئیں اور اپنے گھرانے میں سب سے بڑی بچی تھیں۔ کم عمری سے ہی ادب سے لگاؤ رکھنے والی عشرت آفرین نے ابتدائی تعلیم کراچی میں حاصل کی اور بعد میں جامعہ کراچی سے ایم۔اے۔ اردو ادب کی ڈگری حاصل کی۔ ان کے ابتدائی اشعار صرف 14 سال کی...
مکمل تعارف پڑھیں