جواد شیخ — شاعر کی تصویر

درگزر جتنا کیا ہے وہی کافی ہے مجھے — جواد شیخ

شاعر

تعارف شاعری

درگزر جتنا کیا ہے وہی کافی ہے مجھے

درگزر جتنا کیا ہے وہی کافی ہے مجھے
اب تجھے قتل بھی کر دوں تو معافی ہے مجھے
مسئلہ ایسے کوئی حل تو نہ ہوگا شاید
شعر کہنا ہی مرے غم کی تلافی ہے مجھے
دفعتاً اک نئے احساس نے چونکا سا دیا
میں تو سمجھا تھا کہ ہر سانس اضافی ہے مجھے
میں نہ کہتا تھا دوائیں نہیں کام آئیں گی
جانتا تھا تری آواز ہی شافی ہے مجھے
اس سے اندازہ لگاؤ کہ میں کس حال میں ہوں
غیر کا دھیان بھی اب وعدہ خلافی ہے مجھے
وہ کہیں سامنے آ جائے تو کیا ہو جوادؔ
یاد ہی اس کی اگر سینہ شگافی ہے مجھے

Darguzar jitna kiya hai wahi kaafi hai mujhe

Darguzar jitna kiya hai wahi kaafi hai mujhe
Ab tujhe qatl bhi kar doon to muafi hai mujhe
Masla aise koi hal to na hoga shayad
Sher kehna hi mere gham ki talafi hai mujhe
Dafatan ek naye ehsas ne chonka sa diya
Main to samjha tha ke har saans izafi hai mujhe
Main na kehta tha dawain nahin kaam aayengi
Janta tha teri awaaz hi shafi hai mujhe
Is se andaza lagao ke main kis haal mein hoon
Ghair ka dhyan bhi ab wada-khilafi hai mujhe
Wo kahin samne aa jaye to kya ho Jawwad
Yaad hi us ki agar seena-shigaafi hai mujhe

شاعر کے بارے میں

جواد شیخ

جواد شیخ اردو کے معاصر اور نمایاں شاعروں میں سے ایک نامور شاعر ہیں، جن کا اصل نام شیخ جواد حسین ہے۔ وہ 26 مئی 1985 کو بھلوال، ضلع سرگودھا، پنجاب (پ...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام