جگر مراد آبادی — شاعر کی تصویر

آدمی آدمی سے ملتا ہے — جگر مراد آبادی

شاعر

تعارف شاعری

آدمی آدمی سے ملتا ہے

آدمی آدمی سے ملتا ہے
دل مگر کم کسی سے ملتا ہے
بھول جاتا ہوں میں ستم اس کے
وہ کچھ اس سادگی سے ملتا ہے
آج کیا بات ہے کہ پھولوں کا
رنگ تیری ہنسی سے ملتا ہے
سلسلہ فتنۂ قیامت کا
تیری خوش قامتی سے ملتا ہے
مل کے بھی جو کبھی نہیں ملتا
ٹوٹ کر دل اسی سے ملتا ہے
کاروبار جہاں سنورتے ہیں
ہوش جب بے خودی سے ملتا ہے
روح کو بھی مزا محبت کا
دل کی ہم سائیگی سے ملتا ہے

Aadmi aadmi se milta hai

Aadmi aadmi se milta hai
Dil magar kam kisi se milta hai
Bhool jata hoon main sitam us ke
Woh kuch is saadgi se milta hai
Aaj kya baat hai ke phoolon ka
Rang teri hansi se milta hai
Silsila fitna-e-qayamat ka
Teri khush-qamati se milta hai
Mil ke bhi jo kabhi nahin milta
Toot kar dil usi se milta hai
Karobar-e-jahan sanwarte hain
Hosh jab be-khudi se milta hai
Rooh ko bhi maza mohabbat ka
Dil ki hum-sayegi se milta hai

شاعر کے بارے میں

جگر مراد آبادی

جگر مرادآبادی اردو کے ممتاز کلاسیکی غزل نگار اور صوفی شاعر تھے، جن کا اصل نام علی سکندر تھا اور تخلص جگر مرادآبادی تھا۔ ان کی پیدائش چھ اپریل انیس ...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام