جگر مراد آبادی — شاعر کی تصویر

برابر سے بچ کر گزر جانے والے — جگر مراد آبادی

شاعر

تعارف شاعری

برابر سے بچ کر گزر جانے والے

برابر سے بچ کر گزر جانے والے
یہ نالے نہیں بے اثر جانے والے
نہیں جانتے کچھ کہ جانا کہاں ہے
چلے جا رہے ہیں مگر جانے والے
مرے دل کی بیتابیاں بھی لیے جا
دبے پاؤں منہ پھیر کر جانے والے
ترے اک اشارے پہ ساکت کھڑے ہیں
نہیں کہہ کے سب سے گزر جانے والے
محبت میں ہم تو جیے ہیں جئیں گے
وہ ہوں گے کوئی اور مر جانے والے

Barābar se bach kar guzar jaane vaale

Barābar se bach kar guzar jaane vaale
Ye nāle nahīñ be-asar jaane vaale
Nahīñ jānte kuchh ki jaanā kahāñ hai
Chale jā rahe haiñ magar jaane vaale
Mere dil kī betābiyāñ bhī liye jā
Dabe pā.oñ muñh pher kar jaane vaale
Tire ek ishāre pe sākit khaḌe haiñ
Nahīñ kah ke sab se guzar jaane vaale
Mohabbat meñ ham to jiye hī haiñ jiyeñge
Vo hoñge koī aur mar jaane vaale

شاعر کے بارے میں

جگر مراد آبادی

جگر مرادآبادی اردو کے ممتاز کلاسیکی غزل نگار اور صوفی شاعر تھے، جن کا اصل نام علی سکندر تھا اور تخلص جگر مرادآبادی تھا۔ ان کی پیدائش چھ اپریل انیس ...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام