کیف احمد صدیقی

شاعر

تعارف شاعری

تعارف

کیف احمد صدیقی، جن کا اصل نام احتشام علی صدیقی تھا، اردو ادب کے ایک سنجیدہ اور معتبر شاعر تھے۔ وہ 12 جنوری 1943ء کو سیتا پور، اتر پردیش میں پیدا ہوئے۔ شاعری میں انہوں نے „کیف“ تخلص اختیار کیا۔ ابتدائی تعلیم کے بعد انہوں نے اردو اور تاریخ میں ایم۔اے کی ڈگری حاصل کی اور عملی زندگی میں سیتا پور انٹر کالج سے وابستہ ہو کر تدریسی خدمات انجام دیں۔ تدریس کے ساتھ ساتھ شاعری ان کی مستقل دل چسپی رہی، جسے انہوں نے پوری ذمہ داری اور فکری سنجیدگی کے ساتھ نبھایا۔

کیف احمد صدیقی نے اپنے ادبی سفر کا آغاز بچوں کے لیے نظموں سے کیا اور بعد میں بالغ قارئین کے لیے شاعری کی طرف متوجہ ہوئے۔ بچوں کے لیے ان کی متعدد کتابیں شائع ہوئیں، جن میں دلچسپ نظمیں، سدا بہار نظمیں، اچھی نظمیں اور دینی نظمیں شامل ہیں، جب کہ ان کی نظمیں بچوں کے معروف رسائل جیسے کھلونا، کلیاں، غنچہ اور پیامِ تعلیم میں باقاعدگی سے شائع ہوتی رہیں۔ بالغ قارئین کے لیے ان کے تین اہم شعری مجموعے گرد کا درد (1970ء)، سورج کی آنکھ (1977ء) اور حساب لفظ لفظ کا (1985ء) منظرِ عام پر آئے، جنہوں نے ان کے تخلیقی سفر کو واضح شناخت عطا کی۔

کیف احمد صدیقی کی شاعری میں محبت، تنہائی، انسانی احساسات، فکری اضطراب اور سماجی شعور جیسے موضوعات نمایاں ہیں۔ ان کا اسلوب سادہ، براہِ راست اور فکری گہرائی کا حامل ہے، جس میں جذبات کی سچائی اور تجربے کی صداقت نمایاں نظر آتی ہے۔ وہ 5 جون 1986ء کو اس دنیا سے رخصت ہوئے، مگر ان کی شاعری آج بھی اردو ادب کے قارئین کے لیے ایک سنجیدہ اور معتبر حوالہ سمجھی جاتی ہے اور انہیں ایک حساس شاعر کے طور پر یاد کیا جاتا ہے جس نے کم مگر بامعنی تخلیقی سرمایہ چھوڑا۔