کیف احمد صدیقی

شاعر

تعارف شاعری

میرے کمرے سے نکل کر دائرے

میرے کمرے سے نکل کر دائرے
پھیلتے جاتے ہیں گھر گھر دائرے
اور در بھی کچھ نشر ہونے لگے
ایک مرکز پر سمٹ کر دائرے
وقت کی دہلیز پر سر پھوڑتے
ٹوٹنے لمحوں کے اندر دائرے
خود ہی اکثر خود کشی کرنے لگے
دائروں سے تنگ آکر دائرے
ساری دنیا کو مقید کر گئے
آسمانوں سے اُتر کر دائرے
توڑ کر ایک دائرہ نکلے جو ہم
بل رہے ہیں ہر قدم پر دائرے
اب انھیں میں قید رہیئے عمر بھر
بن گئے سب کا مقدر دائرے
شرخ موجیں لے کے آئے تھے
مگر بن گئے کالا سمندر دائرے
كيف اب آزادیوں کے نام پر
بن رہے ہیں دائروں پر دائر نے

کیف احمد صدیقی