search
شعرا
ایکس سپیس
سپیکرز
ہمارے متعلق
رابطہ کیجیے
مجید امجد
شاعر
تعارف
شاعری
کلام
زندگی
کنواں
میونخ
یہ دنیا
گلی کا چراغ
موٹر ڈیلر
ہر سال ان صبحوں
ایکٹرس کا کنٹریکٹ
ایک شبیہ
ہر جانب ہیں
اپنے دل میں ڈر۔۔۔
ریوڑ
غریب
بول انمول
کبھی کبھی تو زندگیاں
حرص
بہار
سپاہی
نظم
صبح جدائی
راتوں کو
برہنہ
ان لوگوں کے اندر
ریڈنگ روم
اور یہ انساں
پہاڑوں کے بیٹے
جاروب کش
نگاہ باز گشت
یاد
جس بھی روح کا
نظم
ماڈرن لڑکیاں
ایکسیڈنٹ
اے ری چڑیا
ایک شام
جن لفظوں میں
جوانی کی کہانی
خودکشی
فرد
سوکھا تنہا پتا
نژاد نو
ساتھی
دستک
جینے والے
عورت
بس سٹینڈ پر
امروز
آٹوگراف
منٹو
بندا
پنواڑی
کون دیکھے گا
توسیع شہر
آٹوگراف
جاوداں قدروں کی شمعیں بجھ گئیں تو جل اٹھی تقدیر دل
قاصد مست گام موج صبا
ہو کے اس چشم مے پرست سے مست
قریب دل خروش صد جہاں ہم
چاندنی میں سایہ ہائے کاخ و کو میں گھومیے
بچا کے رکھا ہے جس کو غروب جاں کے لئے
ترے فرق ناز پہ تاج ہے مرے دوش غم پہ گلیم ہے
اک سانس کی مدھم لو تو یہی اک پل تو یہی اک چھن تو یہی
عشق کی ٹیسیں جو مضراب رگ جاں ہو گئیں
اک عمر دل کی گھات سے تجھ پر نگاہ کی
جب اک چراغ راہ گزر کی کرن پڑے
کبھی تو سوچ ترے سامنے نہیں گزرے
جو ہو سکے تو مرے دل اب اک وہ قصہ بھی
پھر تو سب ہم درد بہت افسوس کے ساتھ یہ کہتے تھے
کیا سوچتے ہو اب پھولوں کی رت بیت گئی رت بیت گئی
گہرے سروں میں عرض نوائے حیات کر
اپنے دل کی کھوج میں کھو گئے کیا کیا لوگ
سفر کی موج میں تھے وقت کے غبار میں تھے
جنون عشق کی رسم عجیب کیا کہنا
ایک ایک جھروکا خندہ بہ لب ایک ایک گلی کہرام
میری مانند خود نگر تنہا
چہرہ اداس اداس تھا میلا لباس تھا
اس اپنی کرن کو آتی ہوئی صبحوں کے حوالے کرنا ہے
دل نے ایک ایک دکھ سہا تنہا
اور اب یہ کہتا ہوں یہ جرم تو روا رکھتا
کیا روپ دوستی کا کیا رنگ دشمنی کا
جو دل نے کہہ دی ہے وہ بات ان کہی بھی نہ تھی
برس گیا بہ خرابات آرزو ترا غم
دن کٹ رہے ہیں کشمکش روزگار میں
مہکتے میٹھے مستانے زمانے
ہر وقت فکر مرگ غریبانہ چاہئے
بڑھی جو حد سے تو سارے طلسم توڑ گئی
بنے یہ زہر ہی وجہ شفا جو تو چاہے
روش روش پہ ہیں نکہت فشاں گلاب کے پھول
دل سے ہر گزری بات گزری ہے
صدیوں سے راہ تکتی ہوئی گھاٹیوں میں تم (ردیف .. ا)