search
شعرا
ایکس سپیس
سپیکرز
ہمارے متعلق
رابطہ کیجیے
میر تقی میر
شاعر
تعارف
شاعری
کلام
زخم جھیلے داغ بھی کھائے بہت
یارو مجھے معاف رکھو میں نشے میں ہوں
اس کا خیال چشم سے شب خواب لے گیا
عمر بھر ہم رہے شرابی سے
الٹی ہو گئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا
تھا مستعار حسن سے اس کے جو نور تھا
شعر کے پردے میں میں نے غم سنایا ہے بہت
پتا پتا بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے
منہ تکا ہی کرے ہے جس تس کا
آوے گی میری قبر سے آواز میرے بعد
آئے ہیں میرؔ منہ کو بنائے خفا سے آج
آہ سحر نے سوزش دل کو مٹا دیا
آگے جمال یار کے معذور ہو گیا
راہ دور عشق میں روتا ہے کیا
ہم ہوئے تم ہوئے کہ میرؔ ہوئے
لذت سے نہیں خالی جانوں کا کھپا جانا
کیا کہوں تم سے میں کہ کیا ہے عشق
کیا حقیقت کہوں کہ کیا ہے عشق
کچھ موج ہوا پیچاں اے میرؔ نظر آئی
جو اس شور سے میرؔ روتا رہے گا
جس سر کو غرور آج ہے یاں تاجوری کا
جن کے لیے اپنے تو یوں جان نکلتے ہیں
جن جن کو تھا یہ عشق کا آزار مر گئے
جیتے جی کوچۂ دل دار سے جایا نہ گیا
جب رونے بیٹھتا ہوں تب کیا کسر رہے ہے
جب نام ترا لیجیے تب چشم بھر آوے
عشق میں ذلت ہوئی خفت ہوئی تہمت ہوئی
عشق ہمارے خیال پڑا ہے خواب گئی آرام گیا
اس عہد میں الٰہی محبت کو کیا ہوا
ہستی اپنی حباب کی سی ہے
ہمارے آگے ترا جب کسو نے نام لیا
ہم آپ ہی کو اپنا مقصود جانتے ہیں
غم رہا جب تک کہ دم میں دم رہا
فقیرانہ آئے صدا کر چلے
دیکھ تو دل کہ جاں سے اٹھتا ہے
چمن میں گل نے جو کل دعوی جمال کیا
چلتے ہو تو چمن کو چلئے کہتے ہیں کہ بہاراں ہے
بنی تھی کچھ اک اس سے مدت کے بعد
باتیں ہماری یاد رہیں پھر باتیں ایسی نہ سنیے گا
بارے دنیا میں رہو غم زدہ یا شاد رہو
بارہا گور دل جھنکا لایا
برنگ بوئے گل اس باغ کے ہم آشنا ہوتے
اشک آنکھوں میں کب نہیں آتا
اب جو اک حسرت جوانی ہے
آرزوئیں ہزار رکھتے ہیں
آؤ کبھو تو پاس ہمارے بھی ناز سے
عام حکم شراب کرتا ہوں
آہ جس وقت سر اٹھاتی ہے
آئے ہیں میرؔ کافر ہو کر خدا کے گھر میں
آ جائیں ہم نظر جو کوئی دم بہت ہے یاں