کلامِ شاعر
- 01 زخم جھیلے داغ بھی کھائے بہت
- 02 یارو مجھے معاف رکھو میں نشے میں ہوں
- 03 اس کا خیال چشم سے شب خواب لے گیا
- 04 عمر بھر ہم رہے شرابی سے
- 05 الٹی ہو گئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا
- 06 تھا مستعار حسن سے اس کے جو نور تھا
- 07 شعر کے پردے میں میں نے غم سنایا ہے بہت
- 08 پتا پتا بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے
- 09 منہ تکا ہی کرے ہے جس تس کا
- 10 آوے گی میری قبر سے آواز میرے بعد
- 11 آئے ہیں میرؔ منہ کو بنائے خفا سے آج
- 12 آہ سحر نے سوزش دل کو مٹا دیا
- 13 آگے جمال یار کے معذور ہو گیا
- 14 راہ دور عشق میں روتا ہے کیا
- 15 ہم ہوئے تم ہوئے کہ میرؔ ہوئے
- 16 لذت سے نہیں خالی جانوں کا کھپا جانا
- 17 کیا کہوں تم سے میں کہ کیا ہے عشق
- 18 کیا حقیقت کہوں کہ کیا ہے عشق
- 19 کچھ موج ہوا پیچاں اے میرؔ نظر آئی
- 20 جو اس شور سے میرؔ روتا رہے گا
- 21 جس سر کو غرور آج ہے یاں تاجوری کا
- 22 جن کے لیے اپنے تو یوں جان نکلتے ہیں
- 23 جن جن کو تھا یہ عشق کا آزار مر گئے
- 24 جیتے جی کوچۂ دل دار سے جایا نہ گیا
- 25 جب رونے بیٹھتا ہوں تب کیا کسر رہے ہے
- 26 جب نام ترا لیجیے تب چشم بھر آوے
- 27 عشق میں ذلت ہوئی خفت ہوئی تہمت ہوئی
- 28 عشق ہمارے خیال پڑا ہے خواب گئی آرام گیا
- 29 اس عہد میں الٰہی محبت کو کیا ہوا
- 30 ہستی اپنی حباب کی سی ہے
- 31 ہمارے آگے ترا جب کسو نے نام لیا
- 32 ہم آپ ہی کو اپنا مقصود جانتے ہیں
- 33 غم رہا جب تک کہ دم میں دم رہا
- 34 فقیرانہ آئے صدا کر چلے
- 35 دیکھ تو دل کہ جاں سے اٹھتا ہے
- 36 چمن میں گل نے جو کل دعوی جمال کیا
- 37 چلتے ہو تو چمن کو چلئے کہتے ہیں کہ بہاراں ہے
- 38 بنی تھی کچھ اک اس سے مدت کے بعد
- 39 باتیں ہماری یاد رہیں پھر باتیں ایسی نہ سنیے گا
- 40 بارے دنیا میں رہو غم زدہ یا شاد رہو
- 41 بارہا گور دل جھنکا لایا
- 42 برنگ بوئے گل اس باغ کے ہم آشنا ہوتے
- 43 اشک آنکھوں میں کب نہیں آتا
- 44 اب جو اک حسرت جوانی ہے
- 45 آرزوئیں ہزار رکھتے ہیں
- 46 آؤ کبھو تو پاس ہمارے بھی ناز سے
- 47 عام حکم شراب کرتا ہوں
- 48 آہ جس وقت سر اٹھاتی ہے
- 49 آئے ہیں میرؔ کافر ہو کر خدا کے گھر میں
- 50 آ جائیں ہم نظر جو کوئی دم بہت ہے یاں