آدمؑ کو جب تخلیق کیا گیا
تو مٹی میں فقط قالب نہیں ڈالا گیا،
اس میں تنہائی کی ایک خاموش صدا بھی رکھ دی گئی۔
فرشتے سجدے میں تھے،
عرش پر تسبیح کی لہریں تھیں،
مگر آدمؑ کے سینے میں ایک خلا تھا—
ایسا خلا جو صرف “ہم” سے بھر سکتا تھا۔
تب حکم ہوا:
“اے آدم! تُو اکیلا نہیں رہے گا۔”
حوّاؑ کو آدمؑ سے نہیں، آدمؑ کے لیے پیدا کیا گیا۔
پسلی سے نہیں،
بلکہ قرب کی علامت کے طور پر۔
وہ قرب جو نہ فاصلے مانگتا ہے،
نہ دلیل—
بس سکون چاہتا ہے۔
جب آدمؑ نے آنکھ کھولی
تو حوّاؑ سامنے تھیں،
نہ تعارف درکار تھا،
نہ سوال—
کیونکہ روحیں پہچان چکی تھیں۔
یہ وہ محبت تھی
جس میں لمس سے پہلے امانت تھی،
نگاہ سے پہلے حیا تھی،
اور خواہش سے پہلے اطمینان۔
پھر وہ لمحہ آیا
جب جنت سے زمین تک کا سفر لکھا گیا۔
یہ کوئی سزا نہیں تھی،
یہ محبت کی آزمائش تھی۔
فرش پر اترتے وقت
آدمؑ کے ہاتھ میں حوّاؑ کا ہاتھ تھا،
اور آنکھوں میں آنسو—
مگر دل میں ایک ہی دعا:
“یا رب! ہمیں جدا نہ کرنا۔”
زمین پر پہلی رات
کوئی محل نہ تھا،
کوئی چراغ نہ تھا،
مگر دو دل تھے
جو ایک ہی خوف،
ایک ہی امید،
اور ایک ہی رب کی طرف جھکے ہوئے تھے۔
یہ وہ محبت تھی
جس میں خطا کے بعد بھی واپسی تھی،
جس میں توبہ ساتھ ساتھ بہی،
اور جس نے انسان کو سکھایا:
محبت اگر خدا سے جڑی ہو
تو جنت چھن بھی جائے
تو قرب نہیں چھنتا۔
آدمؑ اور حوّاؑ کی محبت
کوئی افسانہ نہیں،
یہ انسان کی اصل ہے۔
یہ ہمیں بتاتی ہے کہ:
محبت پہلے آسمان پر پیدا ہوتی ہے،
زمین پر آزمائی جاتی ہے،
اور رب کی رضا میں پناہ پاتی ہے۔
آج بھی جب کوئی دل
کسی دوسرے دل میں
سکون تلاش کرتا ہے،
تو دراصل وہ
آدمؑ کی تنہائی
اور حوّاؑ کے قرب
کو یاد کر رہا ہوتا ہے۔
یہی ہے وہ داستان
جو عرش سے فرش تک پھیلی ہوئی ہے—
خاموش،
گہری،
اور ہمیشہ زندہ
-----------
نامعلوم
نا معلوم