search
شعرا
ایکس سپیس
سپیکرز
ہمارے متعلق
رابطہ کیجیے
ہوم
›
نا معلوم
›
شاعری
نا معلوم کی شاعری، غزلیں اور نظمیں
شاعر
تعارف
شاعری
کلامِ شاعر
جب درد پرانے ہو بیٹھے
جب کام عشق ہےپھر کیادن ہے رات کیا ہے
وہ اکثر مجھ سے کہتی تھی ریاضی کچھ سکھادو نا
شکستہ شب میں تمہاری وحشت نے سر اٹھایا تو کیا کرو گے
آدمؑ کو جب تخلیق کیا گیا
ارادہ روز کرتا ہوں، مگر کچھ کر نہیں سکتا
گلی گلی یوں محبت کے خواب بیچوں گا
میں داستانِ عشق ہوں تحریر کر مُجھے
ازل سے ایک ہجر کا اسیر ہے،اخیر ہے
کیوں دل کو دھڑکنا یاد آیا
جدھر دیکھتی ہوں اُدھر تم ہی تم ہو
تم سے مل کے ایسا لگا، تم سے مل کے
بچھڑنے والے چلے جو ہو تو بتا کے جاؤ....
ہم اگر تیرے خدوخال بنانے لگ جائیں
ہم نے پورا زور لگا کر رقص کیا
چھوٹی سی غلط فہمی کر دے گی جدا ہم کو
میں نے کمرے میں جو تصویر لگائی ہوئی ہے
گمان سارے یقین کر کے
تو کیا ہوا جو آپ کے ، شمار میں نہیں رہا
قصہ ابھی حجاب سےآگےنہیں بڑھا
ترستی آنکھیں , اداس چہرہ , نحیف لہجہ , بغیر تیرے
مجھ سے باتیں کرو زندگی
کیا لگا تھا
خواب تو خواب ہیں
نہ بُجھا چراغِ دیارِ دل
شاعر کے بارے میں
Poet not found
مکمل تعارف پڑھیں
دیگر کلام
‹ جب درد پرانے ہو بیٹھے
‹ جب کام عشق ہےپھر کیادن ہے رات کیا ہے
‹ وہ اکثر مجھ سے کہتی تھی ریاضی کچھ سکھادو نا
‹ شکستہ شب میں تمہاری وحشت نے سر اٹھایا تو کیا کرو گے
‹ آدمؑ کو جب تخلیق کیا گیا
‹ ارادہ روز کرتا ہوں، مگر کچھ کر نہیں سکتا