اجنبی!
کبھی زندگی میں اگر اکیلا ہو
اور درد حد سے گزر جائے
آنکھیں تری
با ت بے بات رو پڑیں
تب کوئی اجنبی
تیر ی تنہائی کے چاند کا نرم ہالہ بنے
تیری قامت کا سایہ بنے
تیرے زخموں کا سایہ بنے
تیری پلکوں سے شبنم چُنے
تیرے دُکھ کا مسیحا بنے!
پروین شاکر
Ajnabi!
Kabhi zindagi mein agar akela ho
Aur dard hadd se guzar jaaye
Aankhen teri
Baat be baat ro paṛen
Tab koi ajnabi
Teri tanhai ke chand ka narm hala bane
Teri qāmat ka saaya bane
Tere zakhmon ka saaya bane
Teri palkon se shabnam chune
Tere dukh ka masiha bane!
پروین شاکر اردو کی جدید ترین اور مقبول ترین شاعرات میں شمار ہوتی ہیں، جنہوں نے نسائی حسّیت، جذبات کی لطافت اور اظہار کی شگفتگی کو نئی جہت عطا کی۔ 24 نومبر 1952ء کو کراچی میں پیدا ہوئیں۔ ابتدائی تعلیم سے اعلیٰ تعلیم تک وہ ہمیشہ نمایاں رہیں اور انگریزی ادب میں ماسٹرز کے بعد پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ تدریس سے عملی زندگی کا آغاز کیا اور بعد ازاں سو...
مکمل تعارف پڑھیں