بہت رویا وہ ہم کو یاد کر کے
ہماری زندگی برباد کر کے
پلٹ کر پھر یہیں آ جائیں گے ہم
وہ دیکھے تو ہمیں آزاد کر کے
رہائی کی کوئی صورت نہیں ہے
مگر ہاں منت صیاد کر کے
بدن میرا چھوا تھا اس نے لیکن
گیا ہے روح کو آباد کر کے
ہر آمر طول دینا چاہتا ہے
مقرر ظلم کی میعاد کر کے
Bahut royā voh ham ko yād kar ke
Hamārī zindagī barbād kar ke
Palaṭ kar phir yahīñ aa jāeñge ham
Voh dekhe toh hameñ āzād kar ke
Rihāī kī koī sūrat nahīñ hai
Magar hañ minnat-e-sayyād kar ke
Badan merā chhū'ā thā us ne lekin
Gayā hai rūh ko ābād kar ke
Har āmir tūl denā chāhtā hai
Muqarrar zulm kī mī'ād kar ke
پروین شاکر اردو کی جدید ترین اور مقبول ترین شاعرات میں شمار ہوتی ہیں، جنہوں نے نسائی حسّیت، جذبات کی لطافت اور اظہار کی شگفتگی کو نئی جہت عطا کی۔ 2...
مکمل تعارف پڑھیں