گواہی کیسے ٹوٹتی معاملہ خدا کا تھا
مرا اور اس کا رابطہ تو ہاتھ اور دعا کا تھا
گلاب قیمت شگفت شام تک چکا سکے
ادا وہ دھوپ کو ہوا جو قرض بھی صبا کا تھا
بکھر گیا ہے پھول تو ہمیں سے پوچھ گچھ ہوئی
حساب باغباں سے ہے کیا دھرا ہوا کا تھا
لہو چشیدہ ہاتھ اس نے چوم کر دکھا دیا
جزا وہاں ملی جہاں کہ مرحلہ سزا کا تھا
جو بارشوں سے قبل اپنا رزق گھر میں بھر چکا
وہ شہر مور سے نہ تھا پہ دوربیں بلا کا تھا
Gavāhī kaise ṭūṭtī mu'āmala ḳhudā kā thā
Mirā aur us kā rābta toh haath aur du'ā kā thā
Gulāb qeemat-e-shaguft shām tak chukā sake
Adā voh dhūp ko huā jo qarza bhī sabā kā thā
Bikhar gayā hai phūl toh hameñ se pūchh-gachh huī
Hisāb bāghbāñ se hai kyā dharā huā kā thā
Lahu-chasheeda haath us ne chūm kar dikhā diyā
Jazā vahāñ milī jahāñ ke marhala sazā kā thā
Jo bārishoñ se qabl apnā rizq ghar maiñ bhar chukā
Voh shehar-e-mor se na thā pe doorbīñ balā kā thā
پروین شاکر اردو کی جدید ترین اور مقبول ترین شاعرات میں شمار ہوتی ہیں، جنہوں نے نسائی حسّیت، جذبات کی لطافت اور اظہار کی شگفتگی کو نئی جہت عطا کی۔ 2...
مکمل تعارف پڑھیں