پیر نصیرالدین

شاعر

تعارف شاعری

تعارف

پیر سید نصیر الدین نصیر گیلانی اردو ادب اور صوفیانہ شاعری کے ممتاز شاعر، عالم اور صوفی بزرگ تھے۔ ان کی ولادت 14 نومبر 1949ء کو گولڑہ شریف، اسلام آباد میں ہوئی۔ وہ پیر غلام معین الدین کے بیٹے اور پیر مہر علی شاہ کے پڑپوتے تھے، اور چشتیہ سلسلے سے منسلک خانقاہ گولڑہ شریف کے سجادہ نشین رہے۔ اپنے خاندان اور روحانی پس منظر کی وجہ سے نصیر الدین نصیر کو بچپن سے ہی دینی اور روحانی تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملا، جس میں علومِ قرآت و تجوید، حدیث، سیرت اور ادبی علوم شامل تھے۔

پیر نصیر الدین نصیر ایک کثیراللسان شاعر تھے جنہوں نے سات زبانوں میں شاعری کی، جس کی وجہ سے انہیں "شاعر ہفت زبان" کا لقب ملا۔ ان کی شاعری میں نعت، منقبت، غزل، رباعیات اور صوفیانہ کلام شامل ہیں اور اس میں عشقِ رسول ﷺ، معرفتِ الٰہی، اخلاق اور روحانی سلوک کے موضوعات نمایاں ہیں۔ ان کی مشہور تصانیف میں آغوشِ حیرت، پیمانِ شب، دیں ہمہ اوست اور متعدد علمی و ادبی مقالات شامل ہیں، جنہوں نے اردو و فارسی ادب میں ایک خاص مقام حاصل کیا۔

پیر نصیر الدین نصیر نہ صرف شاعری میں مہارت رکھتے تھے بلکہ ایک پراثر خطیب اور مقرر بھی تھے، جنہوں نے مذہبی و روحانی مجالس اور مشاعروں میں اپنے کلام کے ذریعے سامعین کو متاثر کیا۔ ان کا انتقال 13 فروری 2009ء کو گولڑہ شریف میں ہوا، اور آج بھی ان کا مزار عقیدت مندوں کے لیے ایک روحانی مرکز اور یادگار کے طور پر موجود ہے۔ ان کی شخصیت اور ادبی میراث صوفی روایات، نعتیہ ادب اور اردو و فارسی شاعری کے شائقین کے لیے مشعلِ راہ ہے۔