جب ان سے مری پہلی ملاقات ہوئی تھی
اس دن ہی قیامت کی شروعات ہوئی تھی
اتنا ہے مجھے یاد کبھی بات ہوئی تھی
رسماً ہی سہی ان سے ملاقات ہوئی تھی
خط پڑھ کے خفا تو ہوا اور اس نے کیا کہا
قاصد مرے بارے میں کوئی بات ہوئی تھی
کچھ یاد نہیں بازیٔ الفت کا نتیجہ
تم جیت گئے تھے کہ ہمیں مات ہوئی تھی
میں ہوں وہ رہ عشق میں مظلوم مسافر
منزل کے قریب آ کے جسے رات ہوئی تھی
ہاں یاد ہے مجھ کو ترے گیسو کا بکھرنا
برسا تھا یہ بادل کبھی برسات ہوئی تھی
محروم ہوں اب خواب میں بھی اس کی جھلک سے
جس رخ کی زیارت مجھے دن رات ہوئی تھی
یہ چاند یہ تارے بھی بتاتے ہیں چمک کر
تقسیم ترے حسن کی خیرات ہوئی تھی
بیٹھے تھے سر بزم نصیرؔ ان کے قریں ہم
کل رات کی یہ بات ہے کل رات ہوئی تھی
پیر نصیرالدین