پیر نصیرالدین

شاعر

تعارف شاعری

کاش حاصل مجھے یہ رنگ تماشا ہوتا

کاش حاصل مجھے یہ رنگ تماشا ہوتا
روز و شب سامنے تیرا رخ زیبا ہوتا
رونقیں آتیں خوشی ہوتی نکلتے ارماں
تم قدم رکھتے مرے گھر میں تو کیا کیا ہوتا
پھر مجھے عشق میں معذور سمجھتا ناصح
میری آنکھوں سے جو اس نے تجھے دیکھا ہوتا
میہماں ہے کوئی دم کا یہ تمہارا بیمار
تم بھی آ جاتے جو بالیں پہ تو اچھا ہوتا
یوں نہ ٹھکراؤ اگر دے ہی دیا دل تم کو
دل تمہارا جو نہ ہوتا تو یہ کس کا ہوتا
ہر گھڑی اس کی معیت کا تصور ہے نصیرؔ
یہ بھی ہوتا نہ مرے ساتھ تو تنہا ہوتا

پیر نصیرالدین