کس تصور میں وہ کھو جاتے ہیں اٹھتے بیٹھتے
اپنے جی میں آپ شرماتے ہیں اٹھتے بیٹھتے
پاس رہ کر جو ستم ڈھاتے ہیں اٹھتے بیٹھتے
جب چلے جائیں تو یاد آتے ہیں اٹھتے بیٹھتے
یوں ہم اپنے دل کو بہلاتے ہیں اٹھتے بیٹھتے
کوئے جاناں تک پہنچ جاتے ہیں اٹھتے بیٹھتے
اب تو وہ رہنے لگے ہر وقت مجھ سے بد گماں
کا برا ان کا جو بھڑکاتے ہیں اٹھتے بیٹھتے
فصل گل کیا آئی ہے دیوار زنداں سے اسیر
رات دن سر اپنا ٹکراتے ہیں اٹھتے بیٹھتے
ہے غنیمت چند لمحوں کے لئے مل بیٹھنا
دوست دنیا میں بچھڑ جاتے ہیں اٹھتے بیٹھتے
کس کو یارائے سخن کس کو مجال گفتگو
آپ جب خنجر ہی لہراتے ہیں اٹھتے بیٹھتے
میرے دل کی الجھنوں کا بھی کبھی کوئی خیال
زلف تو وہ اپنی سلجھاتے ہیں اٹھتے بیٹھتے
چشم حق آگاہ میں کیا قدر و قیمت ان کی ہو
چند سکوں پر جو اتراتے ہیں اٹھتے بیٹھتے
آئینہ ہے اور وہ ہیں اور میرا دل نصیرؔ
ان کی بن آئی ہے تڑپاتے ہیں اٹھتے بیٹھتے
پیر نصیرالدین