پیر نصیرالدین

شاعر

تعارف شاعری

وہ دن بھی ہے آنے والا

وہ دن بھی ہے آنے والا
تڑپے گا تڑپانے والا
پھر ہے کسی پر آنے والا
دل ہے قیامت ڈھانے والا
دیکھ رہا ہے غور سے ان کو
آنے والا جانے والا
میں نہ ہٹوں گا در سے تیرے
بہکائے بہکانے والا
بزم میں ان کی میں ہی میں ہوں
چوٹ جگر پر کھانے والا
سانس کا رشتہ ٹوٹ رہا ہے
کب آئے گا آنے والا
ان کی بلا سے ان کو کیا غم
مٹ جائے مٹ جانے والا
آنکھوں سے دل میں در آیا
وہ کم گو شرمانے والا
بھول کر آیا پھر نہ ادھر کو
بات بنا کر جانے والا
کاش نصیرؔ کوئی مل جاتا
راہ پر اس کو لانے والا

پیر نصیرالدین