search
شعرا
ایکس سپیس
سپیکرز
ہمارے متعلق
رابطہ کیجیے
پیر نصیرالدین
شاعر
تعارف
شاعری
کلام
یہ زمانہ یہ دور کچھ بھی نہیں
ہنس دئیے چمن میں گُل ، کس لئے خدا جانے
نہ وہ اہتام ِ مئے کہن ، نہ وہ میکدے کا نظام ہے
منظر فضائے دہر میں سارا علی کا ہے
جسے پہلو میں رہ کر درد حاصل ہو نہیں سکتا
میں اور مجھ کو اور کسی دلربا سے عشق ؟
غمِ ہجراں کی ترے پاس دوا ہے کہ نہیں
دل خون ہو تو کیوں کر نہ لہو آنکھ سے برسے
یہ مانا بے زباں ہوتے ہیں کانٹے
میری زندگی کا تجھ سے یہ نظام چل رہا ہے
منتظر خود ہے بصد شوق، خدا آج کی رات
جو آستاں سے ترے لَو لگائے بیٹھے ہیں
یہ کام ہم نے جنوں میں کیا کیا نہ کیا
ہم کا دکھائی دیت ہے ایسی روپ کی اگیا ساجن ماں
مینوں تیرے فراق نے مار سٹیا، آجا آجا او جانِ بہار آجا
ظلم ہم پر ہر آن ہوتے ہیں
چار تنکوں کا سہارا کچھ نہیں
جو کفن باندھ کے سر سے گزرے
جسے تیری زلفوں کے خم یاد آئے
اگر فرقت کے صدمے کم نہ ہوں گے
ہمارا اور کوئی غم گسار بھی تو نہیں
یوں وہ محفل میں بصد شان بنے بیٹھے ہیں
کسی کو ہجر تڑپائے تمہیں کیا
بات دیکھی ہے فقط آپ کے دیوانوں میں
ٹھان لی میں نے بھی ساقی یہیں مر جانے کی
نکل گئے ہیں خرد کی حدوں سے دیوانے
اک قیامت بن گئی ہے آشنائی آپ کی
جب اچانک مجھے یاد آپ کی آ جاتی ہے
میکدے کا نظام تم سے ہے
حقیقت اور ہی کچھ ہے مگر ہم کیا سمجھتے ہیں
محفل سے ان کی سینکڑوں پی کر نکل گئے
سنے کون قصہ درد دل میرا غم گسار چلا گیا
ان کے جلووں نے عجب رنگ جما رکھا ہے
بس یہی سوچ کے پہروں نہ رہا ہوش مجھے
کوئی دنیائے عطا میں نہیں ہمتا تیرا
اٹھے نہ تھے ابھی ہم حال دل سنانے کو
آج مل کر بھی اون سے نہ کچھ بات کی
دین سے دور نہ مذہب سے الگ بیٹھا ہوں
بن کے تصویر غم رہ گئے ہیں
آپ اس طرح تو ہوش اڑایا نہ کیجیے
ان کے انداز کرم ان پہ وہ آنا دل کا
چھوڑ دو گے تم ہمیں دشمن کے بہکانے سے کیا
نظر میں بھی نہیں اب گھومتا پیمانہ برسوں سے
یہ مقدر کا لکھا ہے اب یہ کٹ سکتا نہیں
لوگ نالاں ہیں جفا سے تیری
بسے ہیں آپ مرے دل میں عمر بھر کے لئے
محفل کا یہ انداز کہاں وہ ہیں کہاں میں
آج اک اک بادہ کش مسرور مے خانے میں ہے
ان سے ہر وقت مری آنکھ لڑی رہتی ہے
کوئی جائے طور پہ کس لیے کہاں اب وہ خوش نظری رہی
کوئی جائے طور پہ کس لیے کہاں اب وہ خوش نظری رہی
سر مے خانہ کوئی پارسا اب تک نہیں آیا
جو وہ تو نہ رہا تو وہ بات گئی جو وہ بات گئی تو مزا نہ رہا
عشق نے جکڑا ہے مجھ کو اس کڑی زنجیر سے
وہ دن بھی ہے آنے والا
تم اک نگاہ کبھی دل پہ ڈال کر دیکھو
یا رب سنائیں ہم کسے اب مدعاۓ دل
سلسلہ ٹوٹے نہ ساقی ہوش اڑ جانے کے بعد
وہ کیا کہہ گئے مجھ کو کیا کہتے کہتے
کسی کافر کو نہ دیں دار کو اپنا کرنا
یہ نظر کی زد ہے ظالم مرا دم نکل نہ جائے
ٹکرا گئی تھی ان کی نظر سے نظر کہیں
بے رخی ان کی ہر ادا میں ہے
کس تصور میں وہ کھو جاتے ہیں اٹھتے بیٹھتے
ہر طرف سے جھانکتا ہے روئے جانانہ مجھے
ہم کسی کا گلا نہیں کرتے
کاش حاصل مجھے یہ رنگ تماشا ہوتا
تجھ سا نہ تھا کوئی نہ کوئی ہے حسیں کہیں
آج مے خانے میں نیت میری بھر جانے دے
جب ان سے مری پہلی ملاقات ہوئی تھی
کبھی ان کا نام لینا کبھی ان کی بات کرنا
مری زیست پر مسرت کبھی تھی نہ ہے نہ ہوگی
دین سے دور، نہ مذہب سے الگ بیٹھا ہوں
عجیب منظر بالائے بام ہوتا ہے
بساط بزم الٹ کر کہاں گیا ساقی
مری زندگی تو فراق ہے وہ ازل سے دل میں مکیں سہی