کلامِ شاعر
- 01 یہ زمانہ یہ دور کچھ بھی نہیں
- 02 ہنس دئیے چمن میں گُل ، کس لئے خدا جانے
- 03 نہ وہ اہتام ِ مئے کہن ، نہ وہ میکدے کا نظام ہے
- 04 منظر فضائے دہر میں سارا علی کا ہے
- 05 جسے پہلو میں رہ کر درد حاصل ہو نہیں سکتا
- 06 میں اور مجھ کو اور کسی دلربا سے عشق ؟
- 07 غمِ ہجراں کی ترے پاس دوا ہے کہ نہیں
- 08 دل خون ہو تو کیوں کر نہ لہو آنکھ سے برسے
- 09 یہ مانا بے زباں ہوتے ہیں کانٹے
- 10 میری زندگی کا تجھ سے یہ نظام چل رہا ہے
- 11 منتظر خود ہے بصد شوق، خدا آج کی رات
- 12 جو آستاں سے ترے لَو لگائے بیٹھے ہیں
- 13 یہ کام ہم نے جنوں میں کیا کیا نہ کیا
- 14 ہم کا دکھائی دیت ہے ایسی روپ کی اگیا ساجن ماں
- 15 مینوں تیرے فراق نے مار سٹیا، آجا آجا او جانِ بہار آجا
- 16 ظلم ہم پر ہر آن ہوتے ہیں
- 17 چار تنکوں کا سہارا کچھ نہیں
- 18 جو کفن باندھ کے سر سے گزرے
- 19 جسے تیری زلفوں کے خم یاد آئے
- 20 اگر فرقت کے صدمے کم نہ ہوں گے
- 21 ہمارا اور کوئی غم گسار بھی تو نہیں
- 22 یوں وہ محفل میں بصد شان بنے بیٹھے ہیں
- 23 کسی کو ہجر تڑپائے تمہیں کیا
- 24 بات دیکھی ہے فقط آپ کے دیوانوں میں
- 25 ٹھان لی میں نے بھی ساقی یہیں مر جانے کی
- 26 نکل گئے ہیں خرد کی حدوں سے دیوانے
- 27 اک قیامت بن گئی ہے آشنائی آپ کی
- 28 جب اچانک مجھے یاد آپ کی آ جاتی ہے
- 29 میکدے کا نظام تم سے ہے
- 30 حقیقت اور ہی کچھ ہے مگر ہم کیا سمجھتے ہیں
- 31 محفل سے ان کی سینکڑوں پی کر نکل گئے
- 32 سنے کون قصہ درد دل میرا غم گسار چلا گیا
- 33 ان کے جلووں نے عجب رنگ جما رکھا ہے
- 34 بس یہی سوچ کے پہروں نہ رہا ہوش مجھے
- 35 کوئی دنیائے عطا میں نہیں ہمتا تیرا
- 36 اٹھے نہ تھے ابھی ہم حال دل سنانے کو
- 37 آج مل کر بھی اون سے نہ کچھ بات کی
- 38 دین سے دور نہ مذہب سے الگ بیٹھا ہوں
- 39 بن کے تصویر غم رہ گئے ہیں
- 40 آپ اس طرح تو ہوش اڑایا نہ کیجیے
- 41 ان کے انداز کرم ان پہ وہ آنا دل کا
- 42 چھوڑ دو گے تم ہمیں دشمن کے بہکانے سے کیا
- 43 نظر میں بھی نہیں اب گھومتا پیمانہ برسوں سے
- 44 یہ مقدر کا لکھا ہے اب یہ کٹ سکتا نہیں
- 45 لوگ نالاں ہیں جفا سے تیری
- 46 بسے ہیں آپ مرے دل میں عمر بھر کے لئے
- 47 محفل کا یہ انداز کہاں وہ ہیں کہاں میں
- 48 آج اک اک بادہ کش مسرور مے خانے میں ہے
- 49 ان سے ہر وقت مری آنکھ لڑی رہتی ہے
- 50 کوئی جائے طور پہ کس لیے کہاں اب وہ خوش نظری رہی
- 51 کوئی جائے طور پہ کس لیے کہاں اب وہ خوش نظری رہی
- 52 سر مے خانہ کوئی پارسا اب تک نہیں آیا
- 53 جو وہ تو نہ رہا تو وہ بات گئی جو وہ بات گئی تو مزا نہ رہا
- 54 عشق نے جکڑا ہے مجھ کو اس کڑی زنجیر سے
- 55 وہ دن بھی ہے آنے والا
- 56 تم اک نگاہ کبھی دل پہ ڈال کر دیکھو
- 57 یا رب سنائیں ہم کسے اب مدعاۓ دل
- 58 سلسلہ ٹوٹے نہ ساقی ہوش اڑ جانے کے بعد
- 59 وہ کیا کہہ گئے مجھ کو کیا کہتے کہتے
- 60 کسی کافر کو نہ دیں دار کو اپنا کرنا
- 61 یہ نظر کی زد ہے ظالم مرا دم نکل نہ جائے
- 62 ٹکرا گئی تھی ان کی نظر سے نظر کہیں
- 63 بے رخی ان کی ہر ادا میں ہے
- 64 کس تصور میں وہ کھو جاتے ہیں اٹھتے بیٹھتے
- 65 ہر طرف سے جھانکتا ہے روئے جانانہ مجھے
- 66 ہم کسی کا گلا نہیں کرتے
- 67 کاش حاصل مجھے یہ رنگ تماشا ہوتا
- 68 تجھ سا نہ تھا کوئی نہ کوئی ہے حسیں کہیں
- 69 آج مے خانے میں نیت میری بھر جانے دے
- 70 جب ان سے مری پہلی ملاقات ہوئی تھی
- 71 کبھی ان کا نام لینا کبھی ان کی بات کرنا
- 72 مری زیست پر مسرت کبھی تھی نہ ہے نہ ہوگی
- 73 دین سے دور، نہ مذہب سے الگ بیٹھا ہوں
- 74 عجیب منظر بالائے بام ہوتا ہے
- 75 بساط بزم الٹ کر کہاں گیا ساقی
- 76 مری زندگی تو فراق ہے وہ ازل سے دل میں مکیں سہی