یہ کام ہم نے جنوں میں کیا کیا نہ کیا
ہوا جو چاک گریباں سیا سیا نہ سیا
وفور شوق میں کیا اعتبار سانسوں کا
رہا رہا نہ رہا میں جیا جیا نہ جیا
ہم آتے جاتے رہے میکدے میں شام و سحر
شریک جام کسی نے کیا کیا نہ کیا
پیالہ ہاتھ میں لینا ہی مے گساری ہے
بلا سے گھونٹ جو ہم نے پیا پیا نہ پیا
ہمارا فرض تو یہ ہے کہ ہم گلہ نہ کریں
صلہ وفاؤں کا اس نے دیا دیا نہ دیا
تمام عمر حسینوں کو ٹوٹ کر چاہا
انہوں نے نام ہمارا لیا لیا نہ لیا
سلام شوق کیا جب کوئی ملا ہم کو
جواب چاہے کسی نے دیا دیا نہ دیا
چلے بھی آئیے کل کا کچھ اعتبار نہیں
مریض ہجر سحر تک جیا جیا نہ جیا
ہم اپنی منزل مقصود کی لگن میں رہے
ہمارا ساتھ کسی نے دیا دیا نہ دیا
خدا گواہ محبت تو کی وفا نہ سہی
یہ ایک زہر کا پیالہ پیا پیا نہ پیا
نصیرؔ خیر سے ہو جائے گی حیات بسر
کسی کا ہم نے سہارا لیا لیا نہ لیا
پیر نصیرالدین