پیر نصیرالدین

شاعر

تعارف شاعری

یہ مانا بے زباں ہوتے ہیں کانٹے

یہ مانا بے زباں ہوتے ہیں کانٹے
مگر آزارِ جاں ہوتے ہیں کانٹے
گُلوں سے راہ و رسم اچّھی نہیں ہے
رگِ گُل میں نہاں ہوتے ہیں کانٹے
محبّت کی عجب اَٹھکیلیاں ہیں
دِلوں کے درمیاں ہوتے ہیں کانٹے
سنبھلنا، اے چمن کے رہنے والو!
شریکِ آشیاں ہوتے ہیں کانٹے
بیاں کوئی کرے کیا اِن کی فطرت
خود اپنی داستاں ہوتے ہیں کانٹے
وہ صحرا تھا، خلش کوئی نہیں تھی
یہ گُلشن ہے، یہاں ہوتے ہیں کانٹے
چلے تھے جو گُلوں سے عشق کرنے
اُنہیں اب کیوں گراں ہوتے ہیں کانٹے
مِرا دامن ہے یہ، جھٹکو اِسے تم
یہیں پل کر جواں ہوتے ہیں کانٹے
چبھن کُچھ اور بڑھ جاتی ہے اِن کی
کہاں نذرِ خزاں ہوتے ہیں کانٹے
سکوں پائیں نصِیرؔ اہلِ چمن کیا
جہاں جائیں، وہاں ہوتے ہیں کانٹے۔

پیر نصیرالدین