قتیل شفائی — شاعر کی تصویر

اپنے ہونٹوں پر سجانا چاہتا ہوں — قتیل شفائی

شاعر

تعارف شاعری

اپنے ہونٹوں پر سجانا چاہتا ہوں

اپنے ہونٹوں پر سجانا چاہتا ہوں
آ تجھے میں گنگنانا چاہتا ہوں
کوئی آنسو تیرے دامن پر گرا کر
بوند کو موتی بنانا چاہتا ہوں
تھک گیا میں کرتے کرتے یاد تجھ کو
اب تجھے میں یاد آنا چاہتا ہوں
چھا رہا ہے ساری بستی میں اندھیرا
روشنی کو، گھر جلانا چاہتا ہوں
آخری ہچکی ترے زانو پہ آئے
موت بھی میں شاعرانہ چاہتا ہوں

Apne honton par sajana chahta hoon

Apne honton par sajana chahta hoon
Aa tujhe main gungunana chahta hoon
Koi aansu tere daaman par gira kar
Boond ko moti banana chahta hoon
Thak gaya main karte karte yaad tujh ko
Ab tujhe main yaad aana chahta hoon
Chha raha hai saari basti mein andhera
Roshni ko, ghar jalana chahta hoon
Aakhri hichki tere zaano pe aaye
Maut bhi main shairana chahta hoon

شاعر کے بارے میں

قتیل شفائی

اردو کے معروف شاعر اور فلمی نغمہ نگار قتیل شفائی، جن کا اصل نام محمد اورنگ زیب تھا، 24 دسمبر 1919ء کو ہری پور، ہزارہ (برٹش انڈیا، موجودہ پاکستان) میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم انہوں نے گورنمنٹ ہائی اسکول ہری پور سے حاصل کی، مگر والد کے انتقال کے باعث اعلیٰ تعلیم کا سلسلہ جاری نہ رکھ سکے۔ نوجوانی ہی میں ادب سے ان کی وابستگی گہری ہوگئی اور 1938ء می...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام