رانا احمد شہید — شاعر کی تصویر

رانا احمد شہید کا تعارف، احوال زندگی اور سرگزشت

شاعر

تعارف شاعری

تعارف

رانا احمد شہید معاصر اردو ادب اور اعلیٰ تعلیم کے میدان کی ایک ایسی ہمہ جہت شخصیت ہیں جنہوں نے تدریس، تحقیق اور تخلیقی ادب تینوں شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔ 25 جون 1978ء کو پیدا ہونے والے رانا احمد شہید نے انگریزی ادب میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور جامعہ پنجاب سے ایم اے، جامعہ گجرات سے ایم فل اور بعد ازاں آسٹریلیا کی ایونڈیل یونیورسٹی اور چارلس سٹرٹ یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ دو دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط تدریسی سفر میں انہوں نے جی ٹی روڈ کالج فار بوائز گجرات اور جامعہ گجرات میں انگریزی کے لیکچرر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں، جبکہ حالیہ برسوں میں آسٹریلیا میں IELTS اور PTE کی تدریس کے ذریعے بین الاقوامی سطح پر بھی اپنی علمی مہارت کا لوہا منوایا۔ ان کی علمی شخصیت زبان و ادب کی تدریس، نصاب سازی، ادبی تنقید، تحقیق اور طلبہ کی فکری تربیت کے مختلف پہلوؤں کا احاطہ کرتی ہے۔

تحقیق و دانش کے میدان میں رانا احمد شہید کا نام ان اہلِ علم میں شمار ہوتا ہے جنہوں نے مابعد نوآبادیاتی مطالعات، نسائی تنقید، نفسیاتی تنقید، لسانیات اور دوسری زبان کے حصول جیسے اہم موضوعات پر سنجیدہ اور معیاری کام کیا۔ ان کے متعدد تحقیقی مقالات بین الاقوامی جرائد میں شائع ہو چکے ہیں، جبکہ انہوں نے ترکیہ، امریکہ اور آسٹریلیا سمیت مختلف ممالک میں علمی و تحقیقی سرگرمیوں میں پاکستان کی نمائندگی کی۔ جامعہ گجرات کی ڈیبیٹنگ سوسائٹی کے کوآرڈی نیٹر کے طور پر انہوں نے تقریری اور ادبی سرگرمیوں کو فروغ دیا، قومی نصابِ نظرِ ثانی کمیٹی کے کم عمر ترین رکن رہے، پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کی درسی کتب کی تصنیف میں حصہ لیا اور یونیورسٹی کے بورڈ آف اسٹڈیز کے رکن کی حیثیت سے تعلیمی منصوبہ بندی میں فعال کردار ادا کیا۔ ان کی علمی خدمات اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ محض ایک استاد نہیں بلکہ علم و تحقیق کے فروغ کے لیے مسلسل کوشاں دانش ور ہیں۔

ادبی اعتبار سے رانا احمد شہید ایک حساس اور فکر انگیز شاعر کے طور پر پہچانے جاتے ہیں۔ ان کا شعری مجموعہ ’’اگر یہ وقت تھم جائے‘‘ ان کے تخلیقی شعور، داخلی کرب، انسانی احساسات اور عصری مسائل کے گہرے ادراک کا آئینہ دار ہے۔ ان کی شاعری میں محبت، تنہائی، وجودی کشمکش، سماجی رویّوں اور انسانی تجربات کو نہایت سادہ مگر اثرانگیز انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ تدریس کی سنجیدگی، تحقیق کی گہرائی اور شاعری کی لطافت ان کی شخصیت میں ایک خوش گوار امتزاج پیدا کرتی ہے۔ اسی وجہ سے رانا احمد شہید نہ صرف ایک کامیاب معلم اور محقق بلکہ معاصر اردو ادب کی ان معتبر آوازوں میں شمار ہوتے ہیں جو علم، فکر اور تخلیق کو یکجا کر کے اپنی منفرد شناخت قائم کرتی ہیں۔