سعید شارق — شاعر کی تصویر

آنکھیں اپنی تھیں، غم اپنا تھا ، نمی اپنی تھی — سعید شارق

شاعر

تعارف شاعری

آنکھیں اپنی تھیں، غم اپنا تھا ، نمی اپنی تھی

آنکھیں اپنی تھیں، غم اپنا تھا ، نمی اپنی تھی
ہونٹ جس کےبھی تھے لیکن وہ ہنسی اپنی تھی
یونہی لڑتے رہے لمحوں کی کمی بیشی پر
وقت اپنا تھا کسی کا نہ گھڑی اپنی تھی
پھر مجھے گھیر لیا اجنبی آوازوں نے
اور اس بار ہر آواز مری اپنی تھی
اپنی اپنی نظر آتی تھی وہ کھڑکی لیکن
کوئی گھر اپنا رہا تھا نہ گلی اپنی تھی
تیرے ہونے سے زیادہ تھا نہ ہونا میرا
اب یہ جانا ہے کہ مجھ کو تو کمی اپنی تھی
ایسی دُنیا میں مکاں کون بناتا ، شارقؔ
جو پرائی تھی کبھی اور کبھی اپنی تھی

Aankhein apni theen, gham apna tha, nami apni thi

Aankhein apni theen, gham apna tha, nami apni thi
Honth jis ke bhi the lekin woh hansi apni thi
Yunhi ladte rahe lamhon ki kami beshi par
Waqt apna tha kisi ka na ghadi apni thi
Phir mujhe gher liya ajnabi awaazon ne
Aur is baar har awaaz meri apni thi
Apni apni nazar aati thi woh khidki lekin
Koi ghar apna raha tha na gali apni thi
Tere hone se ziyada tha na hona mera
Ab yeh jaana hai ke mujh ko to kami apni thi
Aisi duniya mein makaan kaun banata, Shariq!
Jo parayi thi kabhi aur kabhi apni thi

شاعر کے بارے میں

سعید شارق

نوجوان شاعر سعید شارق کا اصل نام محمد اجمل سعید ہے۔ وہ 03 جون 1993ء کو اسلام آباد میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے بی ایس انجینئرنگ ٹیکنالوجی ( مکینیکل) می...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام