سعید شارق — شاعر کی تصویر

کبھی خائف تھا فقط در مجھ سے — سعید شارق

شاعر

تعارف شاعری

کبھی خائف تھا فقط در مجھ سے

کبھی خائف تھا فقط در مجھ سے
بھاگتا پھرتا ہے اب گھر مجھ سے
مجھے مت دیکھ مرے پاس نہ آ
میں فسردہ ہوں بہت ڈر مجھ سے
لڑکھڑاتی ہوئی پھرتی ہے نگاہ
ٹوٹتے جاتے ہیں منظر مجھ سے
شام کے بوجھ سے دوہری ہے کمر
کیا اٹھے رات کا پتھر مجھ سے
میں رواں تھا کسی دریا کی طرح
ناؤ ٹکراتی رہی سر مجھ سے
متوازن نہ رہے بود و نبود
دونوں پلڑے تھے برابر مجھ سے
موجۂ گرد اٹھے گا شارقؔ
اور پلٹ جائے گا ہو کر مجھ سے

Kabhi khaif tha faqat dar mujh se

Kabhi khaif tha faqat dar mujh se
Bhaagta phirta hai ab ghar mujh se
Mujhe mat dekh mere paas na aa
Main fasurda hoon bahut dar mujh se
Ladkhadati hui phirti hai nigaah
Tootte jaate hain manzar mujh se
Shaam ke bojh se dohri hai kamar
Kya uthe raat ka patthar mujh se
Main rawaan tha kisi dariya ki tarah
Naao takraati rahi sar mujh se
Mutawazan na rahe bood-o-nabood
Donon palde the barabar mujh se
Mauja-e-gard uthega Shariq
Aur palat jaayega ho kar mujh se

شاعر کے بارے میں

سعید شارق

نوجوان شاعر سعید شارق کا اصل نام محمد اجمل سعید ہے۔ وہ 03 جون 1993ء کو اسلام آباد میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے بی ایس انجینئرنگ ٹیکنالوجی ( مکینیکل) می...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام