اک لہر ملی اپنے بہاؤ سے نکل کر
چوما ہے اسے میں نے بھی ناؤ سے نکل کر
روشن ہیں ترے شعلۂ صد رنگ میں ورنہ
ہم کب کے بجھے ہوتے الاؤ سے نکل کر
میں سوچتا ہوں زخم اگر بھر گیا دل کا
یہ درد کہاں جائے گا گھاؤ سے نکل کر
بارانی علاقوں کی طرح آنکھوں کی عادت
ہم جائیں کہاں اپنے کٹاؤ سے نکل کر
میں دیکھتا ہوں اس لیے افلاک کی جانب
کتنا سفر ہے ارضی پڑاؤ سے نکل کر
سلیم فگار
Ek lehar mili apne bahao se nikal kar
Chooma hai use main ne bhi nao se nikal kar
Roshan hain tere shola-e-sad rang mein warna
Hum kab ke bujhe hote alao se nikal kar
Main sochta hoon zakhm agar bhar gaya dil ka
Yeh dard kahan jaayega ghaao se nikal kar
Barani ilaqon ki tarah aankhon ki aadat
Hum jaayen kahan apne katao se nikal kar
Main dekhta hoon is liye aflaak ki jaanib
Kitna safar hai arzi padao se nikal kar
سلیم فگارؔ (اصل نام: محمد سلیم) اردو کے ایک اہم معاصر شاعر ہیں جن کی پیدائش 22 جون 1972ء کو جھیلم، پنجاب (پاکستان) میں ہوئی۔ انہوں نے ابتدائی زندگی اپنے آبائی ماحول میں گزاری جہاں فطرت، تہذیبی روایات اور سادہ طرزِ زندگی نے ان کی شخصیت اور شعری حس کو جلا بخشی۔ بعد ازاں وہ بہتر مواقع کی تلاش میں بیرونِ ملک منتقل ہوئے اور برطانیہ، خصوصاً لندن میں س...
مکمل تعارف پڑھیں