شہزاد احمد 16 اپریل 1932ء کو امرتسر (برطانوی ہندوستان) میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام شہزاد احمد تھا اور ادبی دنیا میں بھی وہ اسی نام سے معروف ہوئے۔ ابتدائی تعلیم امرتسر ہی میں حاصل کی، تاہم قیامِ پاکستان کے بعد وہ ہجرت کر کے لاہور آ گئے، جو بعد ازاں ان کی زندگی اور ادبی سرگرمیوں کا مرکز بنا۔ لاہور میں انہوں نے گورنمنٹ کالج سے ایم ایس سی نفسیات (1956ء) اور بعد ازاں ایم اے فلسفہ (1958ء) کی ڈگریاں حاصل کیں۔ نفسیات اور فلسفے جیسے سنجیدہ علوم نے ان کے فکری مزاج کو گہرائی عطا کی، جس کا واضح اثر ان کی شاعری میں دکھائی دیتا ہے۔ طالب علمی کے زمانے ہی سے ان کا رجحان شاعری کی طرف ہو گیا تھا اور وہ ادبی محفلوں میں بطور شاعر پہچانے جانے لگے تھے۔
شہزاد احمد بنیادی طور پر غزل کے شاعر تھے، مگر ان کی غزل محض روایتی عشقیہ جذبات تک محدود نہیں رہی بلکہ اس میں انسان، اس کے باطن، وجودی کرب، فکری اضطراب اور معاشرتی شعور پوری شدت سے نمایاں ہے۔ ان کی شاعری سادہ اسلوب میں گہری معنویت رکھتی ہے، جو قاری کو سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔ انہوں نے تقریباً تیس سے پینتیس کتابیں تصنیف کیں جن میں شعری مجموعے، تراجم اور فکری و تحقیقی کام شامل ہیں۔ ان کے معروف مجموعہ ہائے کلام میں صدف، جلتی بجھتی آنکھیں، ٹوٹا ہوا پل، اترے میری خاک پر ستارے اور بچھڑا جانے کی رت شامل ہیں۔ ترجمہ نگاری میں بھی انہوں نے اہم خدمات انجام دیں اور غیر ملکی ادب کو اردو قارئین سے متعارف کرایا۔
شہزاد احمد نے صرف تخلیقی سطح پر ہی نہیں بلکہ ادارہ جاتی طور پر بھی اردو ادب کی خدمت کی۔ وہ مجلسِ ترقیِ ادب، لاہور کے ڈائریکٹر جنرل رہے، جہاں ان کی نگرانی میں نایاب اور اہم ادبی کتب کی اشاعت و تحفظ کا کام ہوا۔ ان کی علمی و ادبی خدمات کے اعتراف میں حکومتِ پاکستان نے انہیں صدارتی تمغۂ حسنِ کارکردگی (Pride of Performance) سے نوازا، جب کہ دیگر ادبی اعزازات بھی ان کے حصے میں آئے۔ شہزاد احمد کا انتقال 2 اگست 2012ء کو لاہور میں ہوا۔ ان کی وفات اردو ادب کے لیے ایک بڑا نقصان تھی، مگر ان کا فکری اور تخلیقی سرمایہ آج بھی اردو شاعری میں ایک مضبوط اور روشن حوالہ سمجھا جاتا ہے۔