دمکتے سورج کی آنکھ کھلنے کا وقت آیا
زمیں کے لاوے نے کروٹیں لیں
فلک نے دیکھا تو کانپ اٹھا
یہ سرپھرے لوگ کون سے ہیں ہوا نے پوچھا
سنے ہوئے عزم کے نشان ان کے زرد چہروں پہ کھل اٹھے ہیں
یہ لوگ دن رات جاگتے ہیں
یہ چاہتے ہیں کہ زرد مٹی پہ سرخ پھولوں کی بارشیں ہوں
زمیں کی وسعت پہ قریہ قریہ محافظوں کی الگ زمیں ہو
زمیں کے بے تاج بادشاہوں نے ہم کو لوٹا ہے قریہ قریہ
ہماری جھولی میں بھیک ڈالی ہے
بھیک میں واہمے دیے ہیں
یہ واہمے ہی ہمارے گھر ہیں
ہم ان گھروں میں کئی زمانوں سے رہ رہے ہیں
گھروں کی دیواریں رفتہ رفتہ سمٹ رہی ہیں
چھتیں دھماکوں سے پھٹ رہی ہیں
ہم ان کے ملبے میں دب رہے ہیں
قرن قرن جاں بہ لب رہے ہیں
پھر اب تو یہ عہد کر لیا ہے
یہ گھر رہیں گے یا ہم رہیں گے
کبھی نہ دونوں بہم رہیں گے
زمیں پہ سیلاب آنے والا ہے
اس میں پوشیدہ وہ اجالا ہے
جس سے صدیوں کی تیرگی پر نشے افق کی نظر پڑے گی
اسی اجالے کی وسعتوں میں وہ روز ہے جس کی ایک جنبش
ہر ایک دیوار توڑ دے گی
لہو ستم کا نچھوڑ دے گی
وہ گھر بھی مٹی پہ آ رہیں گے
جو گھر نہیں ہیں ہمارے زنداں ہیں
جن کی تختی بدلتی رہتی ہے
نام ان کے ہزار رکھے گئے ہیں
پھر بھی ہوس کے زنداں تو ایک جیسے ہیں
ایک زنجیر ہی کی کڑیاں
الگ الگ بھی ہیں ایک بھی ہیں
شہزاد احمد