کلامِ شاعر
- 01 زہریلی تخلیق
- 02 ویسے تو اک دوسرے کی سب سنتے ہیں
- 03 بکھرے ہوئے تاروں سے مری رات بھری ہے
- 04 جل بھی چکے پروانے ہو بھی چکی رسوائی
- 05 جب اس کی زلف میں پہلا سفید بال آیا
- 06 میں جو روتا ہوں تو کہتے ہو کہ ایسا نہ کرو
- 07 یوں خاک کی مانند نہ راہوں پہ بکھر جا
- 08 جھانکتا ہے تری آنکھوں سے زمانوں کا خلا
- 09 شب غم کو سحر کرنا پڑے گا
- 10 وہ مرے پاس ہے کیا پاس بلاؤں اس کو
- 11 چراغ خود ہی بجھایا بجھا کے چھوڑ دیا
- 12 کون کہتا ہے کہ دریا میں روانی کم ہے
- 13 بدلتے ناموں کی داستانیں
- 14 باغ کا باغ اجڑ گیا کوئی کہو پکار کر
- 15 ابلیس بھی رکھ لیتے ہیں جب نام فرشتے
- 16 حال اس کا ترے چہرہ پہ لکھا لگتا ہے
- 17 جینے مرنے کے درمیان ایک ساعت
- 18 تری تلاش تو کیا تیری آس بھی نہ رہے
- 19 یادوں کی زنجیریں
- 20 جو شجر سوکھ گیا ہے وہ ہرا کیسے ہو
- 21 رخصت ہوا تو آنکھ ملا کر نہیں گیا
- 22 چپ کے عالم میں وہ تصویر سی صورت اس کی
- 23 بے شمار آنکھیں
- 24 شہر کا شہر اگر آئے بھی سمجھانے کو