search
شعرا
ایکس سپیس
سپیکرز
ہمارے متعلق
رابطہ کیجیے
شہزاد احمد
شاعر
تعارف
شاعری
کلام
زہریلی تخلیق
ویسے تو اک دوسرے کی سب سنتے ہیں
بکھرے ہوئے تاروں سے مری رات بھری ہے
جل بھی چکے پروانے ہو بھی چکی رسوائی
جب اس کی زلف میں پہلا سفید بال آیا
میں جو روتا ہوں تو کہتے ہو کہ ایسا نہ کرو
یوں خاک کی مانند نہ راہوں پہ بکھر جا
جھانکتا ہے تری آنکھوں سے زمانوں کا خلا
شب غم کو سحر کرنا پڑے گا
وہ مرے پاس ہے کیا پاس بلاؤں اس کو
چراغ خود ہی بجھایا بجھا کے چھوڑ دیا
کون کہتا ہے کہ دریا میں روانی کم ہے
بدلتے ناموں کی داستانیں
باغ کا باغ اجڑ گیا کوئی کہو پکار کر
ابلیس بھی رکھ لیتے ہیں جب نام فرشتے
حال اس کا ترے چہرہ پہ لکھا لگتا ہے
جینے مرنے کے درمیان ایک ساعت
تری تلاش تو کیا تیری آس بھی نہ رہے
یادوں کی زنجیریں
جو شجر سوکھ گیا ہے وہ ہرا کیسے ہو
رخصت ہوا تو آنکھ ملا کر نہیں گیا
چپ کے عالم میں وہ تصویر سی صورت اس کی
بے شمار آنکھیں
شہر کا شہر اگر آئے بھی سمجھانے کو