فغاں بھی چھوڑ دی فریاد بھی نہیں کریں گے
جو وہ کہے تو اسے یاد بھی نہیں کریں گے
کھلیں گے آپ کی آواز کے گلاب کبھی
اگرچہ آپ کچھ ارشاد بھی نہیں کریں گے
جو تیرے ہوتے ہوئے کر سکے نہ ڈھنگ سے ہم
وہ کاروبار ترے بعد بھی نہیں کریں گے
خوشی جو دے نہ سکے کوئی سر پھرے دل کو
تو بے سبب اسے ناشاد بھی نہیں کریں گے
جئیں گے دیکھنے کو تیری خامشی کی حدیں
ہم اپنے آپ کو برباد بھی نہیں کریں گے
ظفرؔ کہ بلبل گستاخ بھی ہے گلشن کا
اسے حوالۂ صیاد بھی نہیں کریں گے
ظفراقبال