جو دل نے کہی لب پہ کہاں آئی ہے دیکھو
اب محفل یاراں میں بھی تنہائی ہے دیکھو
پھولوں سے ہوا بھی کبھی گھبرائی ہے دیکھو
غنچوں سے بھی شبنم کبھی کترائی ہے دیکھو
اب ذوق طلب وجہ جنوں ٹھیر گیا ہے
اور عرض وفا باعث رسوائی ہے دیکھو
غم اپنے ہی اشکوں کا خریدار ہوا ہے
دل اپنی ہی حالت کا تماشائی ہے دیکھو
Jo dil ne kahi lab pe kahaan aai hai dekho
Ab mehfil-e-yaraan mein bhi tanhaai hai dekho
Phoolon se hawa bhi kabhi ghabraai hai dekho
Ghunchon se bhi shabnam kabhi katraai hai dekho
Ab zauq-e-talab wajah-e-junoon theher gaya hai
Aur arz-e-wafa baa'is-e-ruswaai hai dekho
Gham apne hi ashkon ka khareedaar hua hai
Dil apni hi haalat ka tamaashaai hai dekho
زہرا نگاہ اردو کی ممتاز اور باوقار شاعرہ ہیں۔ ان کا اصل نام فاطمہ زہرہ ہے اور وہ 14 مئی 1936ء کو حیدرآباد دکن (برطانوی ہندوستان) میں ایک علمی و ادب...
مکمل تعارف پڑھیں