کلامِ شاعر
- 01 جرمِ وعدہ
- 02 ہر خار عنایت تھا ہر اک سنگ صلہ تھا
- 03 ہر حکمران آ کے بصد ناز و افتخار
- 04 ترا خیال فروزاں ہے دیکھیے کیا ہو
- 05 اس رہ گزر میں اپنا قدم بھی جدا ملا
- 06 سفر خود رفتگی کا بھی عجب انداز كا تھا
- 07 صورت دل کشی رہی خواہش زندگی رہی
- 08 ایک تیرا غم جس کو راہ معتبر جانیں
- 09 گردش مینا و جام دیکھیے کب تک رہے
- 10 ہر آن ستم ڈھائے ہے کیا جانیے کیا ہو
- 11 رک جا ہجوم گل کہ ابھی حوصلہ نہیں
- 12 رات عجب آسیب زدہ سا موسم تھا
- 13 جاں دینا بس ایک زیاں کا سودا تھا
- 14 اب تک شریک محفل اغیار کون ہے
- 15 کیوں اے غم فراق یہ کیا بات ہو گئی
- 16 چمکتی ہوئی دھوپ تیزی سے نکلی (ردیف .. ے)
- 17 خوش جو آئے تھے پشیمان گئے
- 18 وہ جو اک شکل مرے چار طرف بکھری تھی
- 19 یہ کیا ستم ہے کوئی رنگ و بو نہ پہچانے
- 20 یوں کہنے کو پیرایۂ اظہار بہت ہے
- 21 جنون اولیں شائستگی تھی
- 22 سر جھکائے ہوئے اک راہ پہ چلتے رہیے
- 23 دل بجھنے لگا آتش رخسار کے ہوتے
- 24 ہمیں تو عادت زخم سفر ہے کیا کہئے
- 25 لب پر خموشیوں کو سجائے نظر چرائے
- 26 ہم لوگ جو خاک چھانتے ہیں
- 27 حرف حرف گوندھے تھے طرز مشکبو کی تھی
- 28 قربتوں سے کب تلک اپنے کو بہلائیں گے ہم
- 29 رونقیں اب بھی کواڑوں میں چھپی لگتی ہیں
- 30 یہ حکم ہے کہ اندھیرے کو روشنی سمجھو
- 31 وحشت میں بھی منت کش صحرا نہیں ہوتے
- 32 دیر تک روشنی رہی کل رات
- 33 رستے سے محافظ کا خطرہ جو نکل جاتا
- 34 بھولی بسری یادوں کو لپٹائے ہوئے ہوں
- 35 جو دل نے کہی لب پہ کہاں آئی ہے دیکھو
- 36 اپنا ہر انداز آنکھوں کو تر و تازہ لگا
- 37 رات گہری تھی پھر بھی سویرا سا تھا
- 38 کوئی ہنگامہ سر بزم اٹھایا جائے
- 39 ایک کے گھر کی خدمت کی اور ایک کے دل سے محبت کی
- 40 یہ اداسی یہ پھیلتے سائے
- 41 چھلک رہی ہے مئے ناب تشنگی کے لئے
- 42 یہ سچ ہے یہاں شور زیادہ نہیں ہوتا
- 43 برسوں ہوئے تم کہیں نہیں ہو
- 44 بستی میں کچھ لوگ نرالے اب بھی ہیں
- 45 اس امید پہ روز چراغ جلاتے ہیں
- 46 بیٹھے بیٹھے کیسا دل گھبرا جاتا ہے
- 47 نقش کی طرح ابھرنا بھی تمہی سے سیکھا
- 48 کہاں گئے مرے دلدار و غمگسار سے لوگ
- 49 سنا ہے
- 50 بلاوہ
- 51 متاع الفاظ
- 52 اب اس گھر کی آبادی مہمانوں پر ہے
- 53 گل چاندنی
- 54 شام کا پہلا تارا
- 55 زہراؔ نے بہت دن سے کچھ بھی نہیں لکھا ہے
- 56 میں بچ گئی ماں
- 57 ہر خار عنایت تھا ہر اک سنگ صلہ تھا
- 58 ہر حکمران آ کے بصد ناز و افتخار
- 59 ترا خیال فروزاں ہے دیکھیے کیا ہو
- 60 اس رہ گزر میں اپنا قدم بھی جدا ملا
- 61 سفر خود رفتگی کا بھی عجب انداز كا تھا
- 62 صورت دل کشی رہی خواہش زندگی رہی
- 63 ایک تیرا غم جس کو راہ معتبر جانیں
- 64 گردش مینا و جام دیکھیے کب تک رہے
- 65 ہر آن ستم ڈھائے ہے کیا جانیے کیا ہو
- 66 رک جا ہجوم گل کہ ابھی حوصلہ نہیں
- 67 رات عجب آسیب زدہ سا موسم تھا
- 68 جاں دینا بس ایک زیاں کا سودا تھا
- 69 اب تک شریک محفل اغیار کون ہے
- 70 کیوں اے غم فراق یہ کیا بات ہو گئی
- 71 چمکتی ہوئی دھوپ تیزی سے نکلی (ردیف .. ے)
- 72 خوش جو آئے تھے پشیمان گئے
- 73 وہ جو اک شکل مرے چار طرف بکھری تھی
- 74 یہ کیا ستم ہے کوئی رنگ و بو نہ پہچانے
- 75 یوں کہنے کو پیرایۂ اظہار بہت ہے
- 76 جنون اولیں شائستگی تھی
- 77 سر جھکائے ہوئے اک راہ پہ چلتے رہیے
- 78 دل بجھنے لگا آتش رخسار کے ہوتے
- 79 ہمیں تو عادت زخم سفر ہے کیا کہئے
- 80 لب پر خموشیوں کو سجائے نظر چرائے
- 81 ہم لوگ جو خاک چھانتے ہیں
- 82 حرف حرف گوندھے تھے طرز مشکبو کی تھی
- 83 قربتوں سے کب تلک اپنے کو بہلائیں گے ہم
- 84 رونقیں اب بھی کواڑوں میں چھپی لگتی ہیں
- 85 یہ حکم ہے کہ اندھیرے کو روشنی سمجھو
- 86 وحشت میں بھی منت کش صحرا نہیں ہوتے
- 87 دیر تک روشنی رہی کل رات
- 88 رستے سے محافظ کا خطرہ جو نکل جاتا
- 89 بھولی بسری یادوں کو لپٹائے ہوئے ہوں
- 90 جو دل نے کہی لب پہ کہاں آئی ہے دیکھو
- 91 اپنا ہر انداز آنکھوں کو تر و تازہ لگا
- 92 رات گہری تھی پھر بھی سویرا سا تھا
- 93 کوئی ہنگامہ سر بزم اٹھایا جائے
- 94 ایک کے گھر کی خدمت کی اور ایک کے دل سے محبت کی
- 95 یہ اداسی یہ پھیلتے سائے
- 96 چھلک رہی ہے مئے ناب تشنگی کے لئے
- 97 یہ سچ ہے یہاں شور زیادہ نہیں ہوتا
- 98 برسوں ہوئے تم کہیں نہیں ہو
- 99 بستی میں کچھ لوگ نرالے اب بھی ہیں
- 100 اس امید پہ روز چراغ جلاتے ہیں
- 101 بیٹھے بیٹھے کیسا دل گھبرا جاتا ہے
- 102 نقش کی طرح ابھرنا بھی تمہی سے سیکھا