search
شعرا
ایکس سپیس
سپیکرز
ہمارے متعلق
رابطہ کیجیے
زہرا نگاہ
شاعر
تعارف
شاعری
کلام
جرمِ وعدہ
ہر خار عنایت تھا ہر اک سنگ صلہ تھا
ہر حکمران آ کے بصد ناز و افتخار
ترا خیال فروزاں ہے دیکھیے کیا ہو
اس رہ گزر میں اپنا قدم بھی جدا ملا
سفر خود رفتگی کا بھی عجب انداز كا تھا
صورت دل کشی رہی خواہش زندگی رہی
ایک تیرا غم جس کو راہ معتبر جانیں
گردش مینا و جام دیکھیے کب تک رہے
ہر آن ستم ڈھائے ہے کیا جانیے کیا ہو
رک جا ہجوم گل کہ ابھی حوصلہ نہیں
رات عجب آسیب زدہ سا موسم تھا
جاں دینا بس ایک زیاں کا سودا تھا
اب تک شریک محفل اغیار کون ہے
کیوں اے غم فراق یہ کیا بات ہو گئی
چمکتی ہوئی دھوپ تیزی سے نکلی (ردیف .. ے)
خوش جو آئے تھے پشیمان گئے
وہ جو اک شکل مرے چار طرف بکھری تھی
یہ کیا ستم ہے کوئی رنگ و بو نہ پہچانے
یوں کہنے کو پیرایۂ اظہار بہت ہے
جنون اولیں شائستگی تھی
سر جھکائے ہوئے اک راہ پہ چلتے رہیے
دل بجھنے لگا آتش رخسار کے ہوتے
ہمیں تو عادت زخم سفر ہے کیا کہئے
لب پر خموشیوں کو سجائے نظر چرائے
ہم لوگ جو خاک چھانتے ہیں
حرف حرف گوندھے تھے طرز مشکبو کی تھی
قربتوں سے کب تلک اپنے کو بہلائیں گے ہم
رونقیں اب بھی کواڑوں میں چھپی لگتی ہیں
یہ حکم ہے کہ اندھیرے کو روشنی سمجھو
وحشت میں بھی منت کش صحرا نہیں ہوتے
دیر تک روشنی رہی کل رات
رستے سے محافظ کا خطرہ جو نکل جاتا
بھولی بسری یادوں کو لپٹائے ہوئے ہوں
جو دل نے کہی لب پہ کہاں آئی ہے دیکھو
اپنا ہر انداز آنکھوں کو تر و تازہ لگا
رات گہری تھی پھر بھی سویرا سا تھا
کوئی ہنگامہ سر بزم اٹھایا جائے
ایک کے گھر کی خدمت کی اور ایک کے دل سے محبت کی
یہ اداسی یہ پھیلتے سائے
چھلک رہی ہے مئے ناب تشنگی کے لئے
یہ سچ ہے یہاں شور زیادہ نہیں ہوتا
برسوں ہوئے تم کہیں نہیں ہو
بستی میں کچھ لوگ نرالے اب بھی ہیں
اس امید پہ روز چراغ جلاتے ہیں
بیٹھے بیٹھے کیسا دل گھبرا جاتا ہے
نقش کی طرح ابھرنا بھی تمہی سے سیکھا
کہاں گئے مرے دلدار و غمگسار سے لوگ
سنا ہے
بلاوہ
متاع الفاظ
اب اس گھر کی آبادی مہمانوں پر ہے
گل چاندنی
شام کا پہلا تارا
زہراؔ نے بہت دن سے کچھ بھی نہیں لکھا ہے
میں بچ گئی ماں
ہر خار عنایت تھا ہر اک سنگ صلہ تھا
ہر حکمران آ کے بصد ناز و افتخار
ترا خیال فروزاں ہے دیکھیے کیا ہو
اس رہ گزر میں اپنا قدم بھی جدا ملا
سفر خود رفتگی کا بھی عجب انداز كا تھا
صورت دل کشی رہی خواہش زندگی رہی
ایک تیرا غم جس کو راہ معتبر جانیں
گردش مینا و جام دیکھیے کب تک رہے
ہر آن ستم ڈھائے ہے کیا جانیے کیا ہو
رک جا ہجوم گل کہ ابھی حوصلہ نہیں
رات عجب آسیب زدہ سا موسم تھا
جاں دینا بس ایک زیاں کا سودا تھا
اب تک شریک محفل اغیار کون ہے
کیوں اے غم فراق یہ کیا بات ہو گئی
چمکتی ہوئی دھوپ تیزی سے نکلی (ردیف .. ے)
خوش جو آئے تھے پشیمان گئے
وہ جو اک شکل مرے چار طرف بکھری تھی
یہ کیا ستم ہے کوئی رنگ و بو نہ پہچانے
یوں کہنے کو پیرایۂ اظہار بہت ہے
جنون اولیں شائستگی تھی
سر جھکائے ہوئے اک راہ پہ چلتے رہیے
دل بجھنے لگا آتش رخسار کے ہوتے
ہمیں تو عادت زخم سفر ہے کیا کہئے
لب پر خموشیوں کو سجائے نظر چرائے
ہم لوگ جو خاک چھانتے ہیں
حرف حرف گوندھے تھے طرز مشکبو کی تھی
قربتوں سے کب تلک اپنے کو بہلائیں گے ہم
رونقیں اب بھی کواڑوں میں چھپی لگتی ہیں
یہ حکم ہے کہ اندھیرے کو روشنی سمجھو
وحشت میں بھی منت کش صحرا نہیں ہوتے
دیر تک روشنی رہی کل رات
رستے سے محافظ کا خطرہ جو نکل جاتا
بھولی بسری یادوں کو لپٹائے ہوئے ہوں
جو دل نے کہی لب پہ کہاں آئی ہے دیکھو
اپنا ہر انداز آنکھوں کو تر و تازہ لگا
رات گہری تھی پھر بھی سویرا سا تھا
کوئی ہنگامہ سر بزم اٹھایا جائے
ایک کے گھر کی خدمت کی اور ایک کے دل سے محبت کی
یہ اداسی یہ پھیلتے سائے
چھلک رہی ہے مئے ناب تشنگی کے لئے
یہ سچ ہے یہاں شور زیادہ نہیں ہوتا
برسوں ہوئے تم کہیں نہیں ہو
بستی میں کچھ لوگ نرالے اب بھی ہیں
اس امید پہ روز چراغ جلاتے ہیں
بیٹھے بیٹھے کیسا دل گھبرا جاتا ہے
نقش کی طرح ابھرنا بھی تمہی سے سیکھا