احمد ندیم قاسمی

فرشتہ مرا معیار نہیں ہو سکتا (احمد ندیم قاسمی)

19 November 2025

19سپیکرز
188لسنرز

سپیکرز

نور مائیر کا پیش کردہ کلام

مجھے تلاش کرو

شجر سے ٹوٹ کے جب میں گرا کہاں پہ گرا مجھے تلاش کرو جن آندھیوں نے مری سر زمیں ادھیڑی تھی وہ آج مولد عیسیٰ میں گرد اڑاتی ہیں جو ہو سکے تو انہی سے مرا پتہ پوچھو مجھے تلاش کرو چلی جو مشرق و مغرب سے تند و تیز ہوا مرے شجر نے مجھے پیار سے سمیٹ لیا مجھے لپیٹ لیا اپنی کتنی باہوں میں یہ بے لحاظ عناصر مگر بضد ہی رہے میں برگ سبز گرا برگ زرد کی مانند اسی سلگتی ہوئی راکھ سی پتاور میں جو بچھ رہی ہے افق سے افق کے پار تلک مجھے تلاش کرو شجر سے کٹ کے زباں کٹ گئی نہ ہو میری میں چیختا ہوں مگر حرف ناشنیدہ ہوں حیات تازہ ہے میری شجر سے میرا ملاپ کہ بس وہی مری بالیدگی کا منبع ہے جو ریگزار میں چھتنار دیکھنے ہیں تمہیں مجھے تلاش کرو فلک کے راز تو کھلتے رہیں گے ہم نفسو مرے وجود کا بھی اب تو راز فاش کرو مجھے تلاش کرو

— احمد ندیم قاسمی

اب تو شہروں سے خبر آتی ہے دیوانوں کی

اب تو شہروں سے خبر آتی ہے دیوانوں کی کوئی پہچان ہی باقی نہیں ویرانوں کی اپنی پوشاک سے ہشیار کہ خدام قدیم دھجیاں مانگتے ہیں اپنے گریبانوں کی صنعتیں پھیلتی جاتی ہیں مگر اس کے ساتھ سرحدیں ٹوٹتی جاتی ہیں گلستانوں کی دل میں وہ زخم کھلے ہیں کہ چمن کیا شے ہے گھر میں بارات سی اتری ہوئی گل دانوں کی ان کو کیا فکر کہ میں پار لگا یا ڈوبا بحث کرتے رہے ساحل پہ جو طوفانوں کی تیری رحمت تو مسلم ہے مگر یہ تو بتا کون بجلی کو خبر دیتا ہے کاشانوں کی مقبرے بنتے ہیں زندوں کے مکانوں سے بلند کس قدر اوج پہ تکریم ہے انسانوں کی ایک اک یاد کے ہاتھوں پہ چراغوں بھرے طشت کعبۂ دل کی فضا ہے کہ صنم خانوں کی

— احمد ندیم قاسمی